تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 374 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 374

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1968ء۔تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم قربانیوں کو قبول کیا اور جماعت کی دعائیں رنگ لائیں، ان کے اچھے نتائج نکلے۔اب وہاں جماعت کی تعداد بڑھ گئی ہے۔احمدیت اور اسلام کی طرف رغبت بڑھ رہی ہے۔اور جس ملک میں ہمارا ایک مبلغ گیا تھا اور اس کو بھی ہم ٹھیک طرح سے نہ کھلا سکتے تھے، نہ پہنا سکتے تھے، نہ اس کا علاج کر سکتے تھے، غربت میں قربانی اور اخلاص اور ایثار کی چھت کے نیچے رہ کر اس نے کام کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے کام میں برکت ڈالی اور اب انہی ممالک میں سے بعض ایسے ہیں، جہاں ہمارے چالیس، چالیس سکول بن گئے ہیں۔بڑی کثرت سے وہاں احمدیت اور اسلام پھیل گیا ہے۔اور ان لوگوں کو یہ احساس ہے کہ احمدیت کے طفیل جو صحیح اسلام انہیں ملا ہے، وہ نعمت عظمی ہے۔قرآن کریم کی برکتوں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے جب وہ حصہ پاتے ہیں تو ان کے دل خدا کی حمد سے معمور ہو جاتے ہیں۔اور وہ اپنے ان بھائیوں کے بھی شکر گزار ہوتے ہیں، جو دور دراز ملک سے آئے اور انہیں حقیقی اسلام سے متعارف اور روشناس کرایا۔اور چونکہ اب ان کے دل میں احساس پیدا ہو چکا ہے کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام انسان پر اللہ تعالی کا بہت بڑا احسان ہے، اس لئے ان کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم ہی نہیں ، ہمارے قبیلہ کا ہرفردا سلام کی برکتوں سے حصہ لینے والا ہو۔پھر وہ ہمیں تنگ کرتے ہیں کہ آپ نے جو چار، پانچ مبلغ ہمارے ملک میں بھیجے ہیں ، یہ کافی نہیں۔اور میں نے بتایا تھا کہ ایک، ایک ملک نو ، نو مبلغوں کا مطالبہ کر دیتا ہے۔اس مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے نئے مبلغ تیار ہونے چاہئیں۔اور نئے مبلغ تیار کرنے میں خرچ بھی زیادہ ہوگا اور ان مبلغوں کو دوسرے ممالک میں بھیجنے کے لئے زیادہ روپیہ کی ضرورت ہوگی۔خصوصاً موجودہ حالات میں کہ ہمیں فارن ایکس چینج بہت تھوڑ املتا ہے، اس لئے بونس واؤ چر خرید کر کرنا پڑے گا۔جو بہت زیادہ مہنگا پڑتا ہے۔غرض بڑی مشکل ہے اور روپیہ کی بڑی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ کے ان فضلوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے کاموں میں برکت ڈالی ہے، ہمارا فلاں ملک میں صرف ایک آدمی گیا تھا، اب اس ملک میں جماعت اس طرح پھیل گئی ہے کہ وہاں ہمارے اتنے سکول ہیں اور اتنی مساجد ہیں۔لیکن جب ہم اپنی کوششوں کے نتائج کو بیان کرتے ہیں تو اصل ضرورتیں بھی ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔اگر کسی ملک میں پچاس یا سو مساجد بن گئی ہیں تو ان مساجد کو آباد کرنے کے لئے مستحکم تربیتی نظام کی ضرورت پڑ گئی۔پھر اگر ایک قبیلہ میں سے دسر پندرہ یا میں صدا افراد احمدی مسلمان ہو گئے ہیں، بد مذہب کو انہوں نے چھوڑ دیا ہے، دہریت کو انہوں نے الوداع کہی ہے، عیسائیت سے وہ بیزار ہوئے ہیں تو باقیوں کو اسلام سکھانے کی ضرورت ہے۔پھر جو مسلمان 374