تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 375

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1968ء ہو گئے ہیں، انہوں نے اسلام کے نور کو دیکھا ہے اور اللہ اور اس کی صفات کو پہچانا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بھائی بد قسمت ہیں، انہیں خوش قسمت بنانے کے لئے اور کوشش کرو۔غرض ہر چیز جو ہمارے لئے فخر کا باعث بنتی ہے، وہ ایک دوسرے زاویہ نگاہ سے ہماری ضرورت کا اظہار کر دیتی ہے۔اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ہمیں مزید قربانیاں دینی پڑیں گی۔ورنہ ہمارا انجام بخیر نہیں ہوگا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بار بار یہ کہا ہے کہ انجام بخیر ہونے کی دعا مانگو۔کیونکہ وہ کام جوستر فیصدی ہو جاتا ہے اور 100 فیصدی ہونے سے رہ جاتا ہے، وہ ایک فیصدی بھی نہیں ہوتا۔ایک شخص دس چے دیتا ہے۔ان دس پر چوں میں سے وہ نو میں کامیاب ہو جاتا ہے ( اور یہ نوے فیصدی کامیابی ہو گئی ) لیکن دسویں پرچہ میں فیل ہو جاتا ہے تو جن نو پرچوں میں کامیاب ہوا تھا، عملا ان میں بھی فیل ہو گیا۔اسے اگلی کلاس میں نہیں چڑھایا جائے گا۔پس انجام بخیر ہونا چاہیے۔یعنی ہر کوشش ، ہر جد و جہد اور ہر struggle اپنے کامیاب انجام تک پہنچنی چاہیے۔اگر وہ کامیاب انجام سے ایک قدم پہلے رک جاتی ہے تو ہماری ساری کوشش ضائع ہو جاتی ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہماری پہلی کوشش کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جو فضل کیا ہے اور اسلام کو غالب کرنے کے جو سامان پیدا کئے ہیں، ان ضرورتوں کو ہم پورا کریں۔اور وقت کے تقاضا کو پورا کرتے ہوئے ، ہم ہر اس قربانی کو خدا کے حضور پیش کر دیں، جس کا آج ضرورت تقاضا کرتی ہے۔اگر ہم آج کی ضرورت کا تقاضا پورا نہیں کرتے تو پہلے جو تقاضے ہم نے پورے کئے ، وہ بھی رائیگاں جائیں گے۔کیونکہ ان کا آخری اور حقیقی نتیجہ نہیں نکلے گا۔لیکن اگر ہم اپنی پہلی کوششوں کے نتیجہ میں اپنی بڑھتی ہوئی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ، آج کی ضرورتوں کو پورا کر دیں تو پھر ہمارا ایک قدم آگے بڑھ گیا۔اور پھر اگلے سال ہمارا ایک اور قدم آگے بڑھ جائے گا۔یہاں تک کہ ساری دنیا میں اسلام غالب آ جائے گا۔اور ساری دنیا کے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا ہو جائے گی۔ادیان باطلہ کبھی اپنے علمی گھمنڈ میں کبھی سائنسی تکبر کے نتیجہ میں اور کبھی سیاسی اقتدار پر ناز کی وجہ سے اسلام کو مٹانا چاہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو تو اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعہ ان سارے منصوبوں کو نا کام کر دے گا اور اسلام کو غالب کر دے گا۔اور اسی طرف آپ کو بلایا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے:۔هَانْتُمْ هَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ م 375