تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 372 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 372

خطبہ جمعہ فرمودہ 25 اکتوبر 1968 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم سے بچے بھی ہیں، جنہوں نے ابھی کمانا شروع نہیں کیا۔ان کے والدین ان کی طرف سے کچھ چندہ تحریک جدید میں ادا کر دیتے ہیں۔اور جو کمانے والے ہیں، وہ اپنی کمائی کی عمر کے ابتدائی دور میں سے گزر رہے ہیں۔کیونکہ دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کوئی انسان ملازمت کرتا ہے تو اسے عام طور پر گریڈ ڈ (Graded) تنخواہ ملتی ہے۔جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی تنخواہ کا ابتدائی حصہ اسے ملتا ہے۔اور پھر ہر سال ترقی ہوتی رہتی ہے۔اس طرح اس کی آمد اس کی تعلیم ، قابلیت اور استعداد کے لحاظ سے کم ہوتی ہے۔پھر جوں جوں اس کا تجربہ اور عمر بڑھتی جاتی ہے، اس کی آمد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔اور اگر ساتھ ہی اخلاص بھی اپنی جگہ قائم رہے تو اس کے چندہ میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔لیکن بسا اوقات اللہ تعالیٰ تھوڑی نیکی کرنے والوں کو نیکیوں کی مزید توفیق عطا کرتا ہے۔اخلاص کی نسبت بھی بڑھ جاتی ہے اور ان کے چندے بھی بڑھ جاتے ہیں۔اس لحاظ سے جب میں نے غور کیا تو میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ہم آج دفتر دوم میں شامل ہونے والوں سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ ان کی اوسط بھی 64 روپے فی کس تک پہنچ جائے۔کیونکہ ان میں کم عمر اور ادھیڑ عمر کے بھی ہیں، کم تربیت یافتہ بھی ہیں اور بعد میں داخل ہونے والے بھی ہیں۔لیکن میں نے سوچا اور غور کیا اور مجھے یہ اعلان کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی کہ انہیں روپے اوسط بہت کم ہے۔اور آئندہ سال جو یکم نومبر سے شروع ہو رہا ہے، جماعت کے انصار کو ( دفتر دوم کی ذمہ داری آج میں انصار پر ڈالتا ہوں۔) جماعتی نظام کی مدد کرتے ہوئے ( آزادانہ طور پر نہیں ) یہ کوشش | کرنی چاہیے کہ دفتر دوم کے معیار کو بلند کریں۔اور اس کی اوسط انہیں روپے سے بڑھا کر تمیں روپے فی کس پر لے آئیں۔میں سمجھتا ہوں کہ چونسٹھ روپے فی کس اوسط پر لانا ابھی مشکل ہوگا۔اور یہ ایس بار ہوگا ، جسے شاید ہم نبھا نہ سکیں۔لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو اس معیار کو دفتر اول کے چونسٹھ روپے فی کس کے مقابلہ میں انہیں روپے سے بڑھا کرتیں روپیہ تک پہنچا سکتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ ہمت اور توفیق اور مالوں میں برکت دے، اخلاص میں برکت دے تو یہی لوگ تمہیں سے چالیس اوسط نکالیں گے۔پھر پچاس اوسط نکالیں گے۔پھر ساٹھ اوسط نکالیں گے اور پھر ستر اوسط نکالیں گے۔اور دفتر اول سے بڑھ جائیں گے۔لیکن آئندہ سال کے لئے میں یہ امید رکھتا ہوں کہ جماعتیں اس طرف متوجہ ہوں گی اور میں حکم دیتا ہوں کہ انصار اپنی تنظیم کے لحاظ سے جماعتوں کے ساتھ پورا پورا تعاون کریں۔اور کوشش کریں کہ آئندہ سال دفتر دوم کے وعدوں اور ادائیگیوں کا معیارانہیں روپیہ فی کس اوسط سے بڑھ کر تمیں روپیہ فی کس اوسط تک پہنچ جائے۔اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ سال رواں کے جو تین لاکھ، چون ہزار روپے کے وعدے ہیں ، وہ پانچ لاکھ ، چالیس ہزار روپیہ تک پہنچ جائیں گے۔372