تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 368
اقتباس از خطاب فرمودہ 18 اکتوبر 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اور مذہب کے خلاف نہیں کی گئی۔لاکھوں، کروڑوں اور اربوں کتابیں اسلام کے خلاف شائع کی گئی ہیں۔یہ کتابیں محض جھوٹ کے پلندے تھے ، جو دشمنوں نے شائع کئے اور ساری دنیا میں، دنیا کے کونہ کونہ میں ہر شہر اور ہر قریہ میں ان کو پھیلایا۔اور انہوں نے اپنا سارا زور لگایا۔لیکن وہ لوگ، جن کے دلوں میں حقیقی تقویٰ تھا، وہ گھبرائے نہیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے مبعوث فرمایا ہے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک روحانی فرزند جلیل کی شکل میں مبعوث فرمایا ہے۔کچھ لوگ آپ کے گرد جمع ہو گئے۔ہم میں سے بعض تو وہ ہیں، جو نئے نئے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور بعض وہ ہیں، جو احمدیوں کے بچے ہیں۔دیکھو! اس زمانہ میں بھی، جہاں تک مادی ذرائع کا تعلق ہے یا تعداد کا تعلق ہے، ہماری کوئی حیثیت نہیں۔ساری دنیا اسلام پر حملہ آور ہے اور اس کے مقابل مٹھی بھر چند دل ہیں، جو اسلام کی حقیقی ہمدردی اور خیر خواہی رکھنے والے ہیں۔لیکن اس یقین پر قائم ہیں کہ اللہ ہماری ڈھال اور ہمارا مددگار اور حمد و معاون ہے، اس لئے ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ان کے دل میں کوئی خوف نہیں پیدا ہوتا۔ہمارے کم عمر، کم علم ، غریب، بے کس، بیچارے نوجوان جاتے ہیں اور دھڑلے کے ساتھ ان پادریوں سے بھی ٹکر لیتے ہیں، جن کو پوپ بھی ملاقات کا وقت دینے پر مجبور ہوتا ہے۔جن سے امریکہ کا پریذیڈنٹ بھی گھنٹہ گھنٹہ بات کرتا ہے۔جس سے ملنا بڑا مشکل ہے۔اتنا رعب ہوتا ہے ان کا۔لیکن ہمارے اس نو عمر مبلغ کے دل پر ان کا رعب طاری نہیں ہوتا۔اس لئے کہ وہ نوجوان اسلام کا خادم ہونے کی وجہ سے القوی ہے، دل کا مضبوط ہے۔وہ اس معنی میں مضبوط ہے کہ وہ جانتا ہے، اللہ میری ڈھال ہے۔اور جس کی ڈھال اللہ ہو ، اس کو کون نقصان پہنچا سکتا ہے؟ دل کی مضبوطی کے لیے تو کل بھی چاہئے۔یعنی انسان تدبیر اور کوشش کو انتہا تک پہنچائے اور نتیجہ کو خدائے قادر وتوانا کی ذات پر چھوڑ دے۔تو کل کے یہ معنی ہیں کہ جس وقت انسان اپنی پوری کوشش کر لیتا ہے لیکن سمجھتا ہے کہ یہ کوشش اتنی حقیر سی ہے، تعداد میں ہم کم ہیں ، اموال کم ہیں ، ذرائع کم ہیں، وسائل کم ہیں لیکن انسان کی اس کوشش کا نتیجہ اور اس کی تدبیر کا نتیجہ، اس کی تدبیر کی وجہ سے نہیں نکلتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نکلتا ہے۔کامل تو کل دل کو مضبوط کرتا ہے۔اور اصولاً ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایمان کا کمال انسان کے دل کو مضبوط کرتا ہے۔اور ایمان کو صحیح طور پر تربیت دینے کے لئے قرآن کریم کے علوم کا سیکھنا ضروری ہے۔اس لئے ہم خدام 368