تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 362
اقتباس از خطبہ جمعہ فرموده 18 اکتوبر 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ اللہ کوکسی کی احتیاج نہیں۔تمام تعریفوں کا وہ مالک ہے۔ہمیں اپنی دنیوی اور اخروی ضرورتوں کے لئے یہ قربانیاں دینی چاہئیں۔اور دنیوی اور اخروی انعاموں کے حصول کے لئے ان قربانیوں کا پیش کرنا، ہمارے لئے ضروری ہے۔ان مثالوں سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کے اندر جو روح تھی ، وہ یہ تھی کہ وہ الْفُقَرَاءِ إِلَى اللهِ ہیں۔منافق ہر جگہ ہوتے ہیں، اس وقت میں ان کی بات نہیں کر رہا۔ان میں سے جومخلص اور ایثار پیشہ تھے اور بھاری اکثریت انہی لوگوں کی تھی۔ان کی زبان پر یہودیوں کی طرح یہ نہیں آتا تھا کہ إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ بلکہ ان کی زبان پر یہ تھا، ان کے دل میں یہ احساس تھا اور ان کی روح میں یہ تڑپ تھی کہ وہ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللهِ ہیں۔نہ ان کی کوئی مادی ضرورت پوری ہو سکتی ہے اور نہ روحانی، جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرورت کو پورا نہ کرے۔غرض جس سے ہم نے ہرشی کو حاصل کرنا ہے، اس کی رضا کے حصول کے لئے پانچ روپیہ یا پانچ لاکھ روپیہ قربان نہیں کیا جاسکتا؟ میں نے صحابہ کرام کی ایک مثال دی ہے کہ جس کے پاس دو جوڑے کپڑے تھے، اس نے ایک جوڑا کپڑے پیش کر دیئے۔تفصیل تو نہیں ملتی لیکن یہ امکان ہے کہ ان میں سے کسی کو اس قربانی کی توفیق ملی ہو اور اس کے بعد وہ مثلا فوت ہو گیا ہو اور مزید قربانی کا اسے موقع نہ ملا ہو۔اسے تو اس قربانی کے نتیجہ میں اخروی انعامات مل گئے لیکن اس کی اولاد کو اس ایک جوڑے کپڑوں کے نتیجہ میں اتنے اموال دیئے گئے کہ اگر وہ چاہتے تو اس قسم کے ایک ہزار جوڑے بنا لیتے۔پس ہم خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں ، ہم فقیر ہیں۔خدا تعالیٰ ہمارا محتاج نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بڑی پیاری بات کہی ہے۔جو قرآن کریم نے بھی نقل کی ہے۔اور وہ یہ ہے۔رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرُ کہ ہر چیز کی مجھے احتیاج ہے۔جو بھلائی بھی تیری طرف سے آئے ، میں اس کا محتاج ہوں۔میں اسے اپنے زور سے حاصل نہیں کر سکتا۔جب تک تو مجھے نہ دے، وہ مجھے نہیں مل سکتی۔362