تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 359 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 359

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرمودہ 18 اکتوبر 1968ء وَ لِلَّهِ مِيْرَاتُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اور جو شخص مخالفت کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں تھا، اس کے دل میں ایک جلن پیدا ہوتی تھی ، یہ دیکھ کر کہ یہ لوگ غریب تھے ، ہمارے محتاج تھے، ہم ہی ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے اور ہمارے بغیر ان کی ضرورتیں پوری نہیں ہو سکتی تھیں۔(ان دنوں جو یہود عرب میں آباد تھے، وہ عربوں کو قرض دیا کرتے تھے۔غرض ان کے دلوں میں یہ دیکھ کر جلن پیدا ہوتی تھی کہ یہ بہت تھوڑے عرصہ میں یعنی چند سال کے اندر اندر اس مقام پر پہنچ گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کر کے اس قسم کے نتائج نکالے ہیں کہ ساری دنیا کی دولت ان کے قدموں پر لا ڈالی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جو مضامین بیان کئے ہیں، وہ ایک دوسرے کی تائید کرتے اور دوسرے مضامین کے لئے دلائل مہیا کرتے چلے جاتے ہیں۔چنانچہ سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے خیالات کی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ بیچ تو یہ ہے۔أَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللهِ ج تم خدا تعالیٰ کے فضلوں کے حاجت مند ہو، تم اس احتیاج کا احساس پیدا کرلو تم یہ مجھ لو کہ دنیا کی کوئی نعمت اور کوئی اخروی نعمت ہمیں اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی ، جب تک اللہ تعالیٰ اس کا فیصلہ نہ کرے۔کیونکہ اس دنیا کی ملکیت بھی اس کے قبضہ میں ہے اور اس دنیا کی نعمتیں بھی اس کے ارادہ اور منشاء کے بغیر کسی کو مل نہیں سکتیں۔تمہیں (جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔جوتی کا ایک تسمہ بھی اس وقت تک نہیں مل سکتا، جب تک خدا تعالیٰ کا منشاء نہ ہو۔ہر چیز میں ہر وقت اور ہر آن تم محتاج ہو۔تمہارے اندر اپنے رب کی احتیاج ہے۔خدا تمہار احتاج نہیں، خدا تعالیٰ تو غنی ہے۔وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ حقیقی غنا اسی کی ذات میں ہے۔کوئی اور ہستی ایسی نہیں ، جس کی طرف ہم حقیقی غنا کو منسوب کر سکیں۔اور کہ سکیں کہ اس کے اندر غنا پائی جاتی ہے اور وہ غنی ہے۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نیک بندہ صفات باری کا مظہر بنتے ہوئے غنا کی صفت بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی توفیق اپنے رب سے پائے۔پھر وہ ایک معنی میں غنی بھی بن جاتا ہے۔ایک معنی میں وہ ربوبیت بھی کرتا ہے اور رحمانیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے۔رحیمیت کے جلوے بھی دکھاتا ہے۔وہ معاف بھی کرتا ہے اور مالک یوم الدین کے جلوے بھی دکھاتا ہے۔لیکن یہ سب نسبتی اور طفیلی چیزیں ہیں۔انسان اللہ تعالیٰ کے منشاء کے مطابق اور اس 359