تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 355
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 فروری 1968ء جس کے خرچ پر اس کو یہ احساس ہوا کہ اگر میں یہ رقم خرچ نہ کرتا تو فلاں فلاں چیز خرید سکتا۔دنیوی فائدہ حاصل کرتا تو مِمَّا تُحِبُّونُ میں یہ اشارہ کیا کہ اس انفاق میں ترقی کرتے چلے جاؤ۔جب سولہویں حصہ کی عادت پڑ جائے تو پھر اللہ تعالیٰ خود امام وقت کو سکھاتا ہے۔تحریک جدید کا مطالبہ ہو جائے گا۔تاکہ تمہیں وہ مال، جو تم خرچ کرو محبوب مال معلوم ہو۔اس کی عادت نہ پڑ چکی ہو۔بلکہ خرچ کرتے ہوئے تمہیں دکھ کا احساس ہو۔تم کہو کہ یہ مال میں خرچ کر رہا ہوں لیکن اس کے نتیجہ میں میری فلاں ضرورت پوری نہیں ہو گی۔اور یہ سوچو کہ فلاں ضرورت کیا ؟ اگر کوئی بھی ضرورت پوری نہ ہو اور میرا رب مجھ سے راضی ہو جائے تو میں خرچ کرتا چلا جاؤں گا۔اس وقت تمہارا خرچ مِمَّا تُحِبُّون میں سے ہوگا۔پھر جب اس کی بھی عادت پڑ جائے گی، وقف جدید کی تحریک شروع کر دی جائے گی۔جب اس کی عادت پڑ جائے گی ، فضل عمر فاؤنڈیشن سامنے آجائے گی۔اور اگر یہ بھی نہ ہو تو وصیت کی طرف انسان کی توجہ جائے گی کہ سولہواں حصہ تو میں دیتا چلا آیا ہوں اور سولہواں حصہ دینے سے مجھے یہ احساس نہیں باقی رہا کہ میں نے اپنے محبوب مال میں سے کچھ دیا ہے۔کیونکہ اس انفاق کی تو مجھے عادت پڑ گئی ہے، اس واسطے آؤ، اب وصیت کریں۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو، اس کی خوشنودی کو ، اس کے فضل کی جنتوں کو پہلے سے زیادہ حاصل کریں۔پھر وصیت میں تو سات درجے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رکھے ہیں۔جب دسویں حصے کی عادت پڑ جائے تو نواں حصہ دینا شروع کر دو۔جب نواں حصہ دینے کی عادت پڑ جائے تو آٹھواں حصہ دینا شروع کر دو۔جب آٹھواں حصہ دینے کی عادت پڑ جائے تو ساتواں حصہ دینا شروع کر دو۔تیسرے حصہ تک اسی طرح کرتے جاؤ۔(اگر کسی وقت تمہیں یہ احساس ہو کہ جو تمہاری پہلی قربانیاں ہیں ، وہ طبیعت اور عادت کا ایک جزو بن گئی ہیں اور مِمَّا تُحِبُّون والی بات نہیں رہی۔تو ہدایت کی راہوں پر آگے سے آگے لے جانے کا راستہ اس آیت میں دکھایا گیا ہے۔لَن تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ اور اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ جب قرآن کریم کے شروع میں ہمیں بتایا گیا تھا ــدى لِلْمُتَّقِينَ ہے ، یہ کتاب۔اس کے کیا معنی ہیں؟ یہ تو ایک مثال ہے۔بیسیوں مثالیں ایسی ہیں کہ تقویٰ کے کسی ایک مقام پر اللہ تعالیٰ حقیقی مومن اور متقی کو کھڑا نہیں رہنے دیتا۔بلکہ اس کے دل میں ایک جوش اور ایک جذبہ پیدا کرتا ہے کہ جب اس سے مزید ترقی کی راہیں کھلی ہیں، جب اللہ تعالیٰ کی محبت کے مزید جلوے میں دیکھ سکتا ہوں تو کیوں میں یہاں کھڑار ہوں، مجھے آگے بڑھنا چاہیے؟ 355