تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 354
اقتباس از خطبه جمعه فرمود 16 فروری 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم کہ جس خرچ کا ہم مطالبہ کرتے ہیں، جان، مال، دوسری سب وہ چیزیں، جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں اور وہ کہتا ہے کہ اس میں سے کچھ مجھے واپس لوٹا ؤ تا کہ میرے ثواب کو حاصل کرو۔اور یہ خرچ فی سبیل اللہ ہونا چاہیے۔یعنی ان راہوں پر ہونا چاہیے، جو راہیں اللہ تعالیٰ نے خود بتائی ہیں۔بعض دفعہ خرچ کی بعض راہیں انسان کی اپنے نفس سے محبت بتاتی ہے۔محبت نفس اسے کہتی ہے کہ یہاں خرچ کرو، وہاں خرچ کرو اور آرام حاصل کرو۔دنیوی لذتوں میں سے کچھ حصہ پاؤ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کہتے ہیں که خرچ کرو تو یہ مراد نہیں ہوتی کہ نفس کی بتائی ہوئی راہ پر خرچ کرو۔اور اسی طرح بعض دفعہ خاندان خرچ کرواتا ہے۔بعض جاہل اور ناسمجھ لوگ خاندان کی جھوٹی عزت کی خاطر نا قابل برداشت قرض اٹھا لیتے ہیں اور برادری کو خوش کرنے کے لئے افراط کر رہے ہوتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ خرچ کرو۔مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ، اس چیز سے، جو ہم نے تمہیں دی ہے۔تو ہمارا یہ مطلب نہیں کہ اس راہ میں خرچ کرو، جو تمہاری برادری تمہیں بتائے۔اسی طرح خودی، تکبر ، نمائش کا احساس خرچ کی بعض راہیں بتا تا ہے۔تو ان کے اوپر خرچ کرنا، اللہ تعالیٰ کا مطالبہ نہیں۔اس آیت میں یہ فرمایا کہ جس خرچ کرو۔تو اس سے ہماری مراد ہے کہ فی سبیل الله خرچ کرو۔ان راہوں پر خرچ کرو، جو ہم نے متعین کی ہیں اور جن کی نشاندہی ہم نے کی ہے۔جو آیت شروع میں ، میں نے پڑھی تھی کہ لَنْ تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّوْنَ اس میں ایک تیسر امضمون بیان ہوا ہے۔اور اس میں ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ جب قرآن کریم کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ تعلیم ایسی ہے کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہے۔اس کے کیا معنی ہیں؟ مِمَّا تُحِبُّون میں تدریجی ترقیات کی طرف اشارہ ہے۔اور اس کی وجہ بھی بتائی گئی ہے کہ اگر تم اپنی قربانیوں میں بتدریج اضافہ کرتے چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ کی کامل نیکی کو حاصل کر سکو گے۔اگر ایسا نہیں کرو گے تو نیکی کو تو حاصل کر لو گے، اللہ تعالیٰ ثواب تو تمہیں دے گا مگر یہ ثواب نچلے درجہ کا ہوگا۔کامل نیکی نہیں کہلائے گا۔پس یہاں یہ فرمایا ہے کہ جس چیز سے تم محبت کرتے ہو اور جس کے چھوڑنے اور قربان کرنے پر تم تکلیف محسوس کرتے ہو، اس کو خرچ کرنے کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں۔ایک شخص جو سالہا سال سے اپنی آمدنی کا سولہواں حصہ جماعت کے کاموں کے لئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتا چلا آرہا ہے، یہ خرچ اس کے بجٹ کا ایک حصہ بن گیا ہے۔اور یہ ایسی رقم نہیں رہی کہ 354