تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 353
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - اقتباس از خطبه جمعه فرموده 16 فروری 1968ء اللہ کی محبت کے جلوے دیکھنے ہیں تو انفاق فی سبیل اللہ میں ترقی کریں وو خطبہ جمعہ فرمودہ 16 فروری 1968ء اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو بار بار اور مختلف پیرایہ میں انفاق پر ابھارا ہے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔أَنْفِقُوا مَّا رَزَقْنَكُمْ یہاں انسان کو اس طرف متوجہ کیا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔اور یہ اس کی مہربانی ہے کہ وہ اپنی عطا میں سے ایک حصہ واپس مانگتا ہے۔اس وعدہ پر کہ وہ اس انفاق پر اور اس خرج پر اپنی طرف سے ثواب دے گا۔چیز اس کی ہے لیکن جہاں بے شمار فضل اور رحمتیں اس نے اپنے بندے پر نی نہیں، وہاں اس نے یہ بھی فضل کیا کہ جو دیا، اس میں سے کچھ واپس مانگا۔اور جن لوگوں نے اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، اس کے حضور اس کے دیے ہوئے ، میں سے کچھ پیش کر دیا تو اس کے بدلہ میں اس نے ثواب بھی دیا۔اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَالْكَفِرُونَ هُمُ الظَّلِمُونَ ) کہ اس حقیقت کے باوجود وہ لوگ جو ہماری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اور ناشکرے بن جاتے ہیں اور ہماری آواز پر لبیک نہیں کہتے اور ہمارے کہنے کے مطابق خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ، حقیقتا وہ اپنے نفسوں پر ہی ظلم کرنے والے ہیں۔پس اس آیت میں اس طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ جو کچھ تم سے مانگا جارہا ہے، وہ بھی تمہارا نہیں۔گھر سے تو کچھ نہ لائے اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اپنی عطا میں سے کچھ مانگ کے تمہارے لئے مزید نعمتوں کے دروازے کھولنا چاہتا ہے۔اگر پھر بھی تم ناشکر گزار بندے بنے رہو تو بڑے ہی ظالم ہو۔اپنے نفسوں پر بڑا ہی ظلم کرنے والے ہو۔دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔أَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ 353