تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 350
اقتباس از خطبه جمعه فرمود و 02 فروری 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم وابستہ کر دیا ہے۔اور جو شخص آپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، وہ اس دنیا میں بھی اور آنے والی دنیا میں بھی گھاٹے میں رہتا اور خسران پانے والا ہے۔تو جب تک ان کے ذہنوں کی یہ کیفیت رہے کہ تمہارا ڈرانا ،نہ ڈرانا ، ان کے لئے برابر ہی ہو تو اس وقت تک وہ ایمان کیسے لا سکتے ہیں؟ اس لئے تم پر یہ فرض عائد کیا جاتا ہے کہ تم ان کے ذہنوں کی اس کیفیت کو بدلنے کی کوشش کرو۔اس کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل سے قرآن کریم میں ہدایتیں دی ہیں۔ہمیں یہ کہا ہے کہ تمہارے دل میں ایسے لوگوں کے لئے رحم کا جذبہ اس شدت کا پیدا ہو جائے کہ تم ہر وقت ان کے لئے دعائیں کرتے رہو۔وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لے رہے ہیں، اس کی آواز پر لبیک نہیں کہہ رہے، ایک جہنم اپنے لئے پیدا کر رہے ہیں۔اے خدا! تو اپنے ان بندوں کو اس جہنم سے نجات دلا، ان کی آنکھیں کھول، ان کے دلوں کی اس کیفیت کو بدل دے۔اس کے متعلق جیسا کہ میں نے بتایا ہے، بڑی تفصیل سے قرآن کریم نے ہدایتیں ہمیں دی ہیں۔جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ کہہ سے عملی نمونہ دکھاؤ وغیرہ وغیرہ سینکڑوں ہدایتیں ہمیں دی گئی ہیں۔اس محاذ پر بھی ہمیں ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے۔اس وقت اسلام پر سب سے زبر دست حملہ عیسائیت کر رہی ہے۔اور دوسرے نمبر پر دہریت یعنی وہ جو خدا کے وجود سے ہی انکار کر رہے ہیں۔عیسائیت کو یہ وہم ہو گیا تھا کہ وہ بیسویں صدی کے شروع میں ساری دنیا کو اس کے لئے ، جسے وہ خداوند یسوع مسیح کہتے ہیں، جیت لیں گے۔لیکن عین وقت پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اور ان کے اس وہ ہم کو دور کر دیا۔لیکن ابھی طاغوتی طاقتوں کا سر جو اس شکل میں اور اس رنگ میں ظاہر ہوا تھا، پوری طرح کچلا نہیں گیا۔اور ڈیسپریٹ (desperate) ہو کر خائف ہو کر اسلام کے خلاف ہر جائز اور نا جائز طریق کو استعمال کرنے پر عیسائیت تل گئی ہے۔ایک مثال میں دیتا ہوں۔کچھ عرصہ ہوا ، مغربی افریقہ سے یہ اطلاع ملی تھی کہ عیسائیوں کے ایک رسالہ میں یہ مضمون شائع ہوا ہے۔ایک بہت بڑے پادری کی طرف سے کہ جوطریق اس وقت تک ہم عیسائی بنانے کے لئے استعمال کرتے آئے ہیں، وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ہمیں سوچنا پڑے گا کہ نئے طریق اختیار کئے جائیں۔کیونکہ ایک لمبے عرصہ کے تجربہ نے ہم پر یہ ثابت کیا ہے کہ ان راہوں سے ہم کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔اور اس نے یہ مشورہ دیا ہے کہ عیسائیت میں مغربی افریقہ کے رہنے والوں کی روایات اور عادات کے مطابق تبدیلیاں کر دی جائیں۔یہ لوگ بت پرست ہیں، وہم پرست ہیں، جادو اور ٹونے کے قائل ہیں۔کچھ اس قسم کے خیالات عیسائیت کے اندر لے آنے چاہئیں تا کہ یہ لوگ عیسائی ہو جائیں۔350