تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 351

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 02 فروری 1968ء ابھی دو، ایک ہفتے ہوئے ، مشرقی افریقہ سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں بھی پادریوں نے سر جوڑا ہے اور انہوں نے یہ بحث کی ہے کہ جن راہوں کو ہم کامیابی کی راہیں سمجھتے تھے، وہ تو ناکامی کی طرف نہیں لے گئی ہیں۔اور یہ لوگ عیسائیت کی طرف متوجہ نہیں ہورہے۔اس واسطے ان کے ذہن اور ان کی عادتوں اور ان کی روایتوں کے مطابق عیسائی اعتقادات میں تبدیلی کر دینی چاہیے۔تا کہ ان لوگوں کو ہم عیسائی بنا سکیں۔یعنی عیسائیت کا ان پر لیبل لگ جائے ، چاہے وہ پھر کی پرستش کرنے والے ہوں، چاہے وہ درخت کی پرستش کرنے والے ہوں، چاہے وہ جادو اور ٹونے کی پرستش کرنے والے ہوں۔لیکن عیسائیت کے اندر یہ چیزیں لے آؤ لیبل تو لگ جائے گا کہ عیسائی ہو گئے۔تو جو مذہب اس قسم کے ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی طرف آجائے ، اس کی حالت کا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔بہر حال اس وقت وہ اپنا پور از ور لگانے پر تلے ہوئے ہیں کہ ہر جائز اور ناجائز طریق سے اسلام کے خلاف عیسائیت کو کامیاب کریں۔دراصل ہماری زندگی کا جماعت احمدیہ کی زندگی کا مقصد ہی یہ ہے کہ اسلام کو تمام ادیان پر غالب کیا جائے۔اور سب سے بڑا حملہ عیسائیت کے محاذ سے ہو رہا ہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ نے باوجود انتہائی کمزور ہونے کے باوجود انتہائی غریب ہونے کے باوجود انتہائی بے کس ہونے کے، باوجود انتہائی طور پر سیاسی اقتدار سے محروم ہونے کے یہ تو فیق عطا کی، اپنے فضل سے کہ ہم نے ایک بہت بڑا ریلا عیسائیت کا بیسویں صدی کے شروع میں روک دیا۔لیکن ہمارا کام ابھی ختم نہیں ہوا۔اور نہ وہ وقت آیا ہے کہ ہم سمجھیں کے ہمیں اپنی قربانیوں کی رفتار کو اب تیز کرنے کی ضرورت نہیں رہی ، ہم کامیاب ہو گئے ہیں یا یہ کہ کامیابی ہمارے سامنے کھڑی ہے، عنقریب ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ابھی وہ وقت نہیں آیا۔اس کے لئے بہت زیادہ اور انتہائی قربانیاں ہمیں دینی پڑیں گی ،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ، اسلام کے لئے اللہ کے لئے۔جب دلوں کے جیتنے کا سوال ہو تو نصف یا چوتھائی دل جیتنے کا سوال نہیں ہوتا کہ دل آدھے تو شیطان کے رہیں اور نصف خدا کے لئے ہو جائیں۔سارا ہی دل جیتنا ہے۔اور سارے ہی دل کو اللہ تعالیٰ کے قدموں میں لا ڈالنا ہے۔عیسائیت کی طرح ہم یہ تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ اسلام کے اندر مداہنہ کرتے ہوئے کچھ نرمی کر دیں۔پورے کا پورا اسلام انہیں قبول کرنا ہوگا۔انشاء اللہ۔اور پورے کے پورے دل اور روح کے ساتھ اور پورے ذہن کے ساتھ ان کو اپنے اللہ کے حضور جھکنا پڑے گا۔یہ ہماری زندگی، ہمارے قیام کا مقصد ہے، جس کے لئے انتہائی قربانیاں نہیں کرنی پڑیں گی۔اللہ اس کی توفیق عطا کرے۔مطبوع روزنامه افضل 14 مارچ (1968ء 351