تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 347
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 فروری 1968ء تم کو ہر وقت تین محاذوں پر شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا خطبہ جمعہ فرمودہ 02 فروری 1968ء " اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں ایک نہایت ہی لطیف اور نہایت ہی شاندار دعا ہمیں سکھائی ہے، سورہ فاتحہ کی شکل میں۔اور اس طرح ابتداء ہی میں ایک عظیم دعا سکھا کر ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ ایک مسلمان کی زندگی کا انحصار دعا اور صرف دعا پر ہی ہے۔اس کے بعد سورہ بقرہ میں پہلے قرآن کریم کو ایک عظیم ، ایک کامل، ایک مکمل کتاب کی شکل میں ہمارے سامنے رکھا اور یہ اعلان کیا کہ یہ عظیم کتاب ہر قسم کے شکوک و شبہات اور نقائص سے مبرا اور پاک ہے۔اور اس کے بعد امت مسلمہ کو بیدار اور چوکس کیا ، یہ کہہ کر کہ تم کو ہر وقت تین محاذوں پر، تین فرنٹیرز پر ہوشیاری کے ساتھ شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔اور اس کے لئے تمہیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔ایک محاذ ، جس کی طرف ہمیں متوجہ کیا، وہ اندرونی محاذ ہے۔تربیت کا محاذ۔تربیت کے محاذ کے دو پہلو ہیں۔ایک تربیت یافتہ کو تربیت کے اعلیٰ مقام پر قائم رکھنے کی کوشش کرنا۔اور یہ کوشش کرنا کہ وہ مزید ترقیات روحانی راہوں پر کرتا چلا جائے۔تربیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ جو امت مسلمہ میں نئے نئے شامل ہوں بیعت کر کے یا ولادت کے نتیجہ میں ، ان کو اسلام کے رنگ میں صحیح طور پر رنگنا اور سچا مسلمان بنانے کی کوشش کرنا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کتاب هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ہے۔اس میں اس طرف اشارہ کیا کہ تقویٰ کے بلند مقام پر پہنچنے کے باوجود انسان کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی ضرورت رہتی ہے۔اور اس ضرورت کو یہ قرآن پورا کر رہا ہے۔متقیوں کے لئے ہدایت کا سامان اس کے اندر پایا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو دعائیہ الفاظ میں دوسری جگہ اس طرح بیان کیا ہے کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا 347