تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 348
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 02 فروری 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کہ ہدایت تیرے فضل سے ہمیں حاصل ہو جائے۔پھر بھی یہ خطرہ لاحق رہے گا کہ ہمارے دلوں میں کسی قسم کی کبھی نہ پیدا ہو جائے۔پس ہم تیرے حضور عاجزانہ دعا کے ذریعہ جھکتے ہیں اور یہ التجا کرتے ہیں کہ جب ہمیں ہدایت حاصل ہو جائے ، صراط مستقیم ہمیں مل جائے ، ہمارے دل سیدھے ہو جائیں۔تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کوئی کبھی نہ پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اسی خطرہ کی طرف بار ہا متوجہ کیا ہے۔میں ایک مختصر سا اقتباس اس وقت دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔بعض ایسے بھی ہیں کہ اول ان میں دل سوزی اور اخلاص بھی تھا مگر اب ان پر سخت قبض وارد ہے۔اور اخلاص کی سرگرمی اور مریدانہ محبت کی نورانیت باقی نہیں رہی بلکہ صرف بلعم کی طرح مکاریاں باقی رہ گئی ہیں۔اور بوسیدہ دانت کی طرح اب بجز اس کے کسی کام کے نہیں کہ منہ سے اکھاڑ کر پیروں کے نیچے ڈال دیئے جائیں۔وہ تھک گئے اور راندہ ہو گئے اور نابکار دنیا نے اپنے دام تزویر کے نیچے انہیں دبا لیا۔سو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ عنقریب مجھ سے کاٹ دیئے جائیں گے۔بجز اس شخص کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل نئے سرے اس کا ہاتھ پکڑ لیوے۔ایسے بھی بہت ہیں، جن کو خدا تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے مجھے دیا ہے۔اور وہ میرے درخت وجود کی سرسبز شاخیں ہیں۔(فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 40) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان الفاظ میں اسی حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ ہدایت پا لینے کے بعد اس وہم میں مبتلا ہو جانا کہ اب ہمارے لئے ابتلاء آہی نہیں سکتا اور شیطان کا ہم پر کامیاب وار ممکن ہی نہیں۔یہ غلط ہے۔متقی بن جانے کے بعد بھی انسان کو ہدایت کی ضرورت رہتی ہے۔اور جب اللہ تعالیٰ نے یہ دعا سکھائی کہ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا اس میں اس طرف بھی اشارہ کیا کہ کبھی سے بچنے اور ہدایت پر قائم رہنے کے لئے جن ہدایتوں کی ، جن تعلیمات کی ضرورت ہے، وہ قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔پس ایسے مواقع کے لئے جو دعائیں قرآن کریم نے سکھائی ہیں، جو طریق اس نے بتائے ہیں، جو تعلیمیں اس نے دی ہیں، ان سے فائدہ اٹھاؤ۔اور دعاؤں کے ذریعہ اور تدبیر کے ذریعہ یہ کوشش کرو کہ ہدایت پانے کے بعد پھر پاؤں نہ پھیلے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں داخل ہونے کے بعد کہیں ایسا نہ ہو کہ رضا کی ان جنتوں سے نکال دیئے جاؤ۔348