تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 344
اقتباس از خطبه جمعه فرمود 26 جنوری 1968ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یہ انیس جنوری کا لکھا ہوا خط ہے۔امام کمال یوسف لکھتے ہیں کہ :۔جس پادری نے ہمارے خلاف مضامین لکھے، اس اخبار میں ایک ایڈیٹوریل، سات مختلف مضامین پادری کے خلاف اور ہمارے حق میں چھپے ہیں۔(اور بہت سے خطوط بھی۔ایک خط سات دستخطوں سے چھپا ہے، جس میں لکھا ہے کہ اگر پادری کی رائے اسلام کے خلاف اس کی ذاتی نہیں بلکہ اس چرچ کی رائے ہے تو ہم سات آدمی چرچ سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ایک نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے اخلاق ہم سے زیادہ بلند ہیں ، اس لئے پادری کا ایسا لکھنا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بڑی گری ہوئی بات ہے“۔وو اور ایک خط کی سُرخی ہے ” تعصب“۔ایک خط کی سرخی ہے کہ میں بحیثیت عیسائی ایسے پادری کی وجہ سے سخت نادم ہوں“۔ایک نے لکھا ہے کہ پادری کا یہ کہنا کہ اسلام تلوار سے پھیلا، اس کی اپنی تاریخ سے ناواقفی کی علامت ہے۔ایڈیٹوریل کی سرخی ہے۔”دی ڈور ( وہ علاقہ جہاں ہماری مسجد ہے۔) میں مذہبی جنگ“۔آج کا اخبار بھرا ہوا ہے۔اس علاقہ کے طلباء نے کثرت سے مسجد میں آنا شروع کر دیا ہے۔آج بھی ایک کلاس جمعہ کے وقت آ رہی ہے۔تقاریر کے لئے بھی کئی جگہ مدعو کیا گیا ہوں۔خط ختم کرنے کے بعد انہوں نے نوٹ دیا ہے۔ابھی ایک اور اخبار کا فون آیا ہے، بڑا مشہور اخبار ہے۔وہ غالباً اس پادری کے خلاف مضمون لکھ رہا ہے۔شاید رائے عامہ ہموار کر کے اس کو چرچ سے استعفیٰ دینے پر مجبور کرے کہ تو نے کیوں اس قسم کا مضمون اسلام کے خلاف اور نبی اکرم کے خلاف لکھا؟ اب دیکھو، اس طرح ان عیسائیوں کے دلوں میں ان خیالات کا پیدا ہونا اور جرات کے ساتھ ان کا اظہار کرنا اور اسی اخبار کا ، جس میں اسلام کے خلاف اس پادری کا مضمون شائع ہوا تھا، ان خیالات کو شائع کر دینا اور خود ایڈیٹوریل اس کے خلاف لکھنا ، یہ ایسی باتیں نہیں ، جو میں اور آپ کر سکیں۔اللہ تعالیٰ 344