تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 339
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - ارشاد فرمودہ 09 اپریل 1967ء ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں سے دس طالب علم آنے چاہیں۔اگر جماعتیں اس نسبت سے طالب علم مہیا کریں تو جامعہ احمدیہ میں طلباء کی تعداد تین اور پانچ سو کے درمیان ہو جاتی ہے۔جامعہ احمدیہ میں ایسے طالب علم نہ بھیجیں، جن کے متعلق آپ کا یہ خیال ہو کہ ان کے لئے اور کوئی جگہ نہیں، اس لئے انہیں جامعہ احمدیہ میں بھیج دیں۔اگر اچھے طالب علم دیں گے تو اللہ تعالیٰ ایسے سامان کرے گا کہ ان کی فراست صیقل ہوگی۔اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور اخلاص میں برکت ڈالے گا۔دنیا میں جہاں بھی وہ کھڑے ہوں گے، کوئی ان کے مقابلہ میں نہیں آئے گا۔یہ بھی صحیح ہے کہ جامعہ احمدیہ میں جو طالب علم داخل ہوں گے، وہ سارے کے سارے کامیاب نہیں ہوں گے۔بعض ان میں سے رہ جائیں گے۔کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جو درخت لگائے جاتے ہیں، ان میں ایک بڑی تعداد مرجاتی ہے۔اس الہی قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے ، جامعہ احمدیہ میں زیادہ طلباء کی ضرورت ہے۔کیونکہ کچھ تو ان میں سے رہ جائیں گے اور کچھ معیار پر پورے نہیں اتریں گے اور انہیں ہم دفاتر میں لے آئیں گے۔اور ایک آدھ ایسا بھی ہوگا، جسے ہم جماعت سے خارج کرنے پر مجبور ہوں گے۔پس جتنے ہوشیار طالب علم آپ دیں گے، اتنا ہی اچھا نتیجہ نکلے گا۔اس وقت حالت یہ ہے کہ بہت سے ممالک بڑی تعداد میں مبلغین مانگ رہے ہیں۔عملاً جو مبلغ جا رہے ہیں ، وہ بہت کم ہیں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ جو معیار ہم نے بڑی کوشش کے بعد قائم کیا تھا، وہ اب کم ہورہا ہے۔پہلے قاعدہ تھا کہ جو بلغ باہر سے آتا تھا، وہ تین سال تک مرکز میں رہتا تھا۔لیکن اب میں نے کہہ دیا ہے کہ میں نے کسی مبلغ کو مرکز میں تین سال تک نہیں رہنے دینا، جب تک کہ جماعت اور بچوں کی قربانی پیش نہ کرے۔میں ان مبلغین کو صرف ایک سال تک مرکز میں رہنے دوں گا۔ایک طرف آپ تقریریں کرتے ہیں کہ باہر کام کرنے والے مبلغین کو کچھ عرصہ کے بعد مرکز میں بلایا جائے یا ان کے بیوی بچے ان کے ساتھ بھیجے جائیں اور دوسری طرف آپ جامعہ احمدیہ میں پڑھانے کے لئے اپنے بچے یہاں نہیں بھیجتے۔میں نے بہر حال قربانی کا مطالبہ کرنا ہے۔اگر ضرورت حقہ ہو اور میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ جماعت کے افراد قربانی دینے والے ہوں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اپنے بیوی اور بچے کو وادی غیر زرع میں چھوڑ گئے تھے تو وہ وہیں پڑے رہے تھے۔آپ نے ساری عمر کے لئے ان سے قطع تعلق کر دیا تھا۔اگر ہم نے جماعت میں ابراہیمی اسوہ کو قائم رکھنا ہے تو ہمیں ان جیسی قربانی بھی پیش کرنی پڑے گی۔صحابہ کا نمونہ بعض پہلوؤں سے زیادہ شاندار ہے۔اگر آپ واقعہ میں مبلغین۔339