تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 338
ارشاد فرموده 109 اپریل 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم میرا اپنا دفتر ہے، میں اپنے کلرکوں سے بڑے پیار سے کام لیتا ہوں اور وہ بھی بڑے پیار سے کام کرتے ہیں لیکن پھر بھی انہیں بعض دفعہ توجہ دلانی پڑتی ہے۔کیونکہ کا مجمع ہو جاتا ہے اور اس سے مشکل پیش آتی ہے۔ابھی سال ختم نہیں ہوا، مہینہ کے قریب عرصہ ابھی باقی ہے لیکن میرے دفتر میں اس عرصہ میں 55 ہزار سے زائد خطوط آئے ہیں، جو میں نے پڑھے ہیں۔اور کسی نظارت میں آنے والے خطوط کی تعداد دو ہزار سے نہیں بڑھی۔میں بعض دفعہ رات کو تین بجے تک جاگتا ہوں تا ان دوستوں کے خطوط کا جواب دیا جاسکے، جنہوں نے مجھے خطوط لکھے ہیں۔لیکن ہوتا یہ کہ میں تو ان خطوط کا جواب دینے کے لئے راتوں کو تین، تین بجے تک جاگتا ہوں لیکن وہ خطوط چھ چھ ، سات سات دنوں تک دفتر میں ہی پڑے رہتے ہیں۔میرا راتوں کو جا گنا بے فائدہ ہوتا ہے کیونکہ دفتر کے کارکن ڈاک نکال نہیں رہے ہوتے۔ایک تو کام زیادہ ہے اور دوسرے ان میں اپنی فینسی کم ہے۔اگر اچھے کام کرنے والوں کے اندر وقف کی روح بھی پیدا ہو جائے تو وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ دفتر بند ہونے کی گھنٹی بج گئی ، اس لئے اب وہ گھر چلے جائیں۔جتنی توفیق اللہ تعالیٰ نے مجھے کام کرنے کی دی ہے، اس سے 2/5 حصہ بھی کام کرنے والے کلرک ہوں تو کام رکتا نہیں۔اس قسم کے آدمی ملنے چاہئیں جامعہ احمدیہ کو اور میٹرک پاس چاہئیں۔" اگر کوئی طالب علم ایسا ہو، جو بڑا ہوشیار ہو لیکن گھر کے حالات کی وجہ سے وہ میٹرک تک نہ پہنچ سکتا ہو اور اس کو ساتویں یا آٹھویں جماعت میں تعلیم چھوڑ دینی پڑی ہو، اگر وہ میرے علم میں آجائے تو میں اس کی تعلیم کا انتظام کر دوں گا۔یہ نہیں کہ آپ کہیں غریب ہے اور آگے تعلیم حاصل نہیں کر سکتا اور وہ پڑھائی میں کمزور ہو تو میں اس کا انتظام کر دوں۔ایک فیصلہ پہلے ہو چکا ہے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شوری کے مشورہ سے فیصلہ فرمایا تھا کہ ہر وہ جماعت، جس کے چندہ دہندگان کی تعداد 250 ہو، وہ ایک میٹرک پاس طالب علم جامعہ احمدیہ کو دے۔اس کا مطلب یہ تھا کہ افراد جماعت کی تربیت اس رنگ میں کی جائے کہ جس جماعت میں 250 چندہ دہندگان ہوں، وہاں بہر حال ان کی اولاد بھی ہوگی۔وہاں سے ایک طالب علم جامعہ احمدیہ میں آئے۔لیکن اب مشکل یہ ہے کہ ضلع گوجرانوالہ نے اس فیصلہ کے بعد 1966ء میں ایک طالب علم دیا ہے۔حالانکہ ضلع گوجرانوالہ میں 1025 چندہ دہندگان ہیں اور وہاں سے کم سے کم چار ہوشیار بچے پڑھنے کے لئے جامعہ احمدیہ میں آنے چاہئیں تھے ضلع شیخوپورہ میں 1114 چندہ دہندگان ہیں، یہاں سے بھی چار طالب علم آنے چاہئیں تھے۔ضلع سیالکوٹ سے صرف تین طالب علم آئے ہیں۔حالانکہ اس میں 2500 چندہ دہندگان 338