تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 18
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 جنوری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم : اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے احمدی بچوں کے دماغوں میں جلاء پیدا کی ہے اور جب مختلف تعلیمی یونیورسٹیوں کے نتائج نکلتے ہیں تو احمدی نوجوان اپنی نسبت کے مقابل بہت زیادہ تعداد میں اعلیٰ نمبر حاصل کرنے والے ہمیں نظر آتے ہیں۔یہ محض اللہ تعالی کا فضل اور اس کی دین ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، جس میں ہماری کوششوں کا کوئی دخل نہیں۔اگر ہم اپنی غفلت کے نتیجہ میں اچھے دماغوں کو ضائع کر دیں تو اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم نہیں ہوگا۔پس جو طلباء ہونہار اور ذہین ہیں، ان کو بچپن سے ہی اپنی نگرانی میں لے لینا اور انہیں کا میاب انجام تک پہنچانا ، جماعت کا فرض ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ بعض نہایت ذہین بچے تربیت کے نقص کی وجہ سے سکول کے پرائمری اور مڈل کے حصوں میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں۔ان میں آوارگی اور بعض دیگر بری عادتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔جن کی وجہ سے نہ صرف وہ خود بلکہ جماعت بحیثیت جماعت خدا تعالیٰ کے فضلوں اور نعمتوں کا وہ پھل نہیں کھا سکتی، جو اچھے دماغ پیدا کر کے خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے مقدر کیا ہے۔کیونکہ ہم ان دماغوں کو بوجہ عدم توجہ سنبھالتے نہیں بلکہ ضائع کر دیتے ہیں اور اس طرح بعد میں نقصان اٹھاتے ہیں۔اسی طرح بعض اچھے دماغ محض اس وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں کہ وہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں ہوتی کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکیں۔اور جماعت بھی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم ناشکری کرتے ہوئے ان قابل ذہنوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔پس ہر اچھا دماغ رکھنے والے طالب علم کو جو جائزہ لینے کے بعد اس قابل معلوم ہو کہ اگر اسے اعلی تعلیم دلائی جائے تو اسلام اور احمدیت کا نام روشن کرنے والا ثابت ہو سکتا ہے، سنبھالنا جماعت کا فرض ہے۔جماعت کو اس پر نہ صرف روپیہ خرچ کرنا چاہیے بلکہ اس کے لئے دعائیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے راہ راست پر قائم رکھے اور اس کے دماغ میں پہلے سے بھی زیادہ جلاء پیدا کرتا چلا جائے۔اور اسے الہام کے ذریعہ نئے نئے مسائل کے حل کرنے کی توفیق عطا فرما تا چلا جائے۔پھر بعض اچھے دماغ اس وجہ سے بھی ضائع ہو جاتے ہیں کہ جب وہ اپنی تعلیم ختم کر لیتے ہیں تو انہیں سمجھ نہیں آتی کہ اپنی آئندہ زندگی میں کس راستہ کو اختیار کریں؟ اس لئے جماعت کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے نو جوانوں کی ان کی آئندہ زندگی کے پروگرام بنانے میں مدد کرے۔بہت اچھے دماغ ، اچھے دماغ ، درمیانے دماغ اور نسبتا کمزور دماغ سارے ہی اس بات کے حق دار ہیں کہ جماعت ان کی راہنمائی کرے۔اور جہاں جہاں وہ زندگی کے کاموں میں لگ سکتے ہیں، وہاں انہیں لگوانے میں مدد کرے۔کیونکہ ہر وہ نوجوان جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ کوئی کام کرے، اگر وہ بر وقت کام پر نہیں لگتا اور جماعت بھی اسے کسی کام پر 18