تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 330
تقریر فرمود 24 نومبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم یہ امت کا ایک فریضہ ہے، جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔لیکن ساری امت ہر وقت پوری ذمہ داری کے ساتھ اس فریضہ کو ادا کرنے کے قابل نہیں تھی۔ساری امت کے لئے اس طرح زندگی وقف کرنا ممکن نہیں تھا۔اس لئے گناہ سے انہیں بچانے کے لئے ساتھ یہ بھی کہ دیا کہ جس حد تک تم سے ممکن ہو سکے ، اس فریضہ کی ادائیگی میں لگے رہو۔لیکن ایک گروہ ایسا ضرور ہونا چاہیے کہ وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ جو اپنی زندگیوں کو خدا کی راہ میں وقف کریں اور اس فریضہ کو بجالانے والے ہوں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات اتنی پسندیدہ اور محبوب ہے کہ جب تک امت اس فریضہ کو ادا کرتی رہتی ہے اور امت میں ایسا گروہ قائم رہتا ہے، اس وقت تک وحی کی برکات سے اسے نوازا جاتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ جب میری امت اس فریضہ کو نظر انداز کر دے گی اور اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کرے گی تو حُرِمَتْ بَرُكَةَ الْوَحی وحی کی برکتوں سے اسے محروم کر دیا جائے گا۔پس یہ برکتیں ، جن کا تعلق وحی کے ساتھ ہے، امت کو ایسے لوگوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں ہی ملتی ہیں کہ جو اپنی ساری زندگیاں اس فریضہ کی ادائیگی میں خرچ کرتے ہیں۔غرض اتنا بڑا انعام اللہ تعالیٰ نے وقف زندگی کے ساتھ باندھ دیا ہے۔اس لئے دعا ہے کہ ہمارے مبلغ بھی اس احسان کو پہچانیں، جو اللہ تعالیٰ نے ان پر کیا ہے اور جماعت بھی اس احسان کو کبھی فراموش نہ کرے، جو واقفین کے ذریعہ ان پر اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔اور خدا کرے کہ ہمیشہ ہی جماعت علی العموم اور واقفین زندگی بالخصوص اس فریضہ کو خلوص نیت کے ساتھ اور پوری ذمہ داری کے ساتھ اس طرح ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی یہ قربانی اور ایثار مقبول ہو جائے۔اور جماعت وحی کی برکات سے ہمیشہ مستفیض ہوتی رہے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 05 جنوری 1968ء) 330