تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 326 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 326

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 نومبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہے۔اس چھوٹے سے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت پر اپنے ایسے فضل کئے کہ ان کی تعداد اک سے ہزار ہو دیں، والی دعا سے بھی بڑھ گئی۔اور ان کے اموال میں جو برکت اللہ تعالیٰ نے ڈالی ، وہ اک سے دس ہزار کی نسبت سے بڑھ گئی۔اس سے ہم اس صداقت تک پہنچتے ہیں کہ جماعت احمد یہ خدا کی راہ میں جو مالی قربانیاں دیتی ہے، وہ ضائع نہیں جاتیں۔اس دنیا میں بھی خدا کی راہ میں دی گئی رقم تمہیں واپس مل جاتی ہے۔اور صرف اتنی ہی نہیں ملتی ، دگنی ہی نہیں ملتی ، دس گنے یا سو گنے ہی زیادہ نہیں ملتی، جیسا کہ ابھی میں نے اعدادوشمار سے بتایا ہے بلکہ دس ہزار گنے زیادہ ملتی ہے۔ایسے خاندان بھی ہیں جماعت کے کہ ان کے والد نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جتنی قربانی دی، ان کے بچوں میں سے ایک، ایک کی ماہوار آمدنی ان کی ساری زندگی کی مالی قربانی سے زیادہ تھی۔تو اللہ تعالیٰ بڑے فضلوں کا مالک ہے۔اور بڑے فضل کر رہا ہے اور کرنا چاہتا ہے۔اور اس لحاظ سے اگر ہم اندازہ لگائیں کہ اگلے پچھتر سال میں ہمارے مالوں میں کس قدر برکت پیدا ہو جائے گی ( مجموعی طور پر جماعت کے مالوں میں ) تو بے شمار رقم بن جاتی ہے۔اس لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو دنیا میں ایک فوقیت عطا کرے گا۔اور یہ ڈیڑھ سو سال کا عرصہ کوئی لمبا عرصہ نہیں ہے۔ایک آواز، جوا کیلی اور تنہا آواز اور ایک غریب انسان کی آواز ، ایک ایسے انسان کی آواز تھی ، جو دنیوی لحاظ سے کوئی وجاہت یا اقتدار نہیں رکھتا تھا۔لیکن اپنے رب سے انتہائی پیار کرنے والا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اس طرح وہ محو تھا کہ امت مسلمہ میں ویسی محبت اور عشق کسی امتی نے اپنے امام، اپنے محد صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی نہیں کی۔اس کو اللہ تعالیٰ نے کھڑا کیا اور کہا کہ میں دنیا میں تیرے ذریعہ سے اسلام کو پھر غالب کرنا چاہتا ہوں۔اور ایک ایسی جماعت تمہیں دوں گا (يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّماءِ ) کہ آسمان سے فرشتے نازل ہوں گے اور انہیں وحی کریں گے کہ وہ اٹھیں اور تیری خدمت میں لگ جائیں۔پھر یہ ایک چھوٹی سی جماعت تھی ، 1892ء میں۔مگر وہ بڑھتی چلی گئی، اپنی تعداد میں۔جیسا کہ ابھی میں نے بتایا ہے، ایک ہزار گنا زیادہ نہیں، تین ہزار گنا زیادہ وہ ہوگئی۔اور کہا گیا تھا کہ ان کے اموال میں برکت دی جائے گی۔چونکہ انہوں نے خدا کی راہ میں ایسے وقت میں قربانیاں دیں، جب مسلمان کہلانے والے اسلام کی خاطر مالی قربانیاں دینے میں بڑی ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے اور عملاً کوئی قربانی نہیں دے رہے تھے۔اور اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا کہ ان کی حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں، جو ایک روپیہ انہوں نے دیا، اس کے بدلہ میں ان کو اور ان کے خاندانوں کو دس ہزار روپیہ سے 326