تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 325
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبہ جمعہ فرمودہ 03 نومبر 1967ء دیئے، ان کی رقم سات سو کچھ روپے تھی۔اور آج پچھتر سال گزرنے کے بعد عملاً جماعت، جو مالی قربانیاں خدا کی راہ میں پیش کر رہی ہے، اس کی رقم ایک کروڑ سے اوپر نکل گئی ہے۔ہم سات سو کی بجائے اگر ایک ہزار لے لیں ( کیونکہ ان وعدوں کے علاوہ وہ دوست، جو بعض مجبوریوں کی وجہ سے رہ جاتے ہیں، انہوں نے بعد میں وعدے کئے ہوں گے اور رقمیں بھجوائی ہوں گی۔تو اگر 1892 ء کی آمد ایک ہزار روپیہ سمجھیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں 1967 ء کی آمد ایک کروڑ سے اوپر نکل گئی۔تحریک جدید کے چندے، صدر انجمن کے چندے، وقف جدید کے چندے، وقف عارضی کا جو خرچ ہوتا ہے، (اگر چہ وہ ہمارے رجسٹروں میں درج نہیں ہوتا لیکن وہ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ ہے، جو ایک احمدی کر رہا ہے۔اپنے خرچ پر باہر جاتا ہے، کرایہ خرچ کرتا ہے، وہاں اپنے گھر سے زائد اسے خرچ کرنا پڑتا ہے۔) ان سب کو اگر اکٹھا کیا جائے تو یہ رقم ایک کروڑ سے کہیں او پر نکل جاتی ہے۔میں ایک کروڑ کی رقم اس وقت لے لیتا ہوں۔تو ایک ہزار سے بڑھ کر ایک کروڑ تک ہماری مالی قربانیاں پہنچ گئیں۔یہ بھی دس ہزار گنار قم بن جاتی ہے۔گویا ایک روپے کے مقابلہ میں دس ہزار روپے کے چندے بنتے ہیں۔یعنی 1892ء میں اگر جماعت نے ایک روپیہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق اپنے رب سے حاصل کی تو اسی برگزیدہ جماعت نے 1967ء میں دس ہزار روپیہ ( اس ایک روپیہ کے مقابلہ میں) خرچ کرنے کی اپنے رب سے توفیق پائی۔یہ تو چندوں کی نسبت ہے۔مگر وعدہ کیا گیا ہے کہ اموال میں برکت دی جائے گی۔اب جس نسبت سے جماعت کے اموال بڑھے ہیں، وہ دس ہزار گنا سے زیادہ ہے۔کیونکہ 1892ء میں قریباً سو فیصدی مخلص تھے اور پوری قربانی دے رہے تھے، خدا کی راہ میں لیکن 1967ء میں تعداد چونکہ بڑھ گئی ہے۔بہت سے ہم میں سے ایسے ہیں، جو تربیت کے محتاج ہیں۔ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ آج سے ایک سال یا دوسال یا چار سال یا پانچ سال کے بعد اس ارفع مقام پر پہنچ جائیں گے، جس پر اللہ تعالیٰ انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔اور ان کے چندوں کی شرح، اس شرح کے مطابق ہو جائے گی ، جو 1892ء میں مخلصین دیا کرتے تھے۔اگر اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جو اموال منقولہ اور غیر منقولہ 1892ء کے احمدیوں کے پاس تھے، آج اس کے مقابلہ میں جماعت کے مجموعی اموال منقولہ یا غیر منقولہ کی قیمت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ دس ہزار گنا سے زیادہ برکت ڈال دی ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل ہم پر نازل ہو رہے ہیں۔جس نقطہ نگاہ سے بھی ہم دیکھتے ہیں، عقلیں حیران رہ جاتی ہیں۔اب پچھتر سالہ عرصہ قوموں اور جماعتوں کی زندگی میں کوئی لمبا عرصہ نہیں 325