تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 324
اقتباس از خطبه جمعه فرموده 03 نومبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم ہے۔اس زیادتی میں دو چیزیں اثر انداز ہوئیں۔ایک پیدائش ، دوسری تبلیغ۔ہر دوراہوں سے اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے نفوس میں برکت ڈالی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا تو یہ فرمائی تھی کہ اک سے ہزار ہو دیں لیکن جب اس تعداد کا، جو 1967ء کی ہے، 1892ء کی تعداد سے ہم مقابلہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا کے نتیجہ میں عملاً یہ کیا کہ تم اک سے ہزار مانگتے ہو، میں اک سے تین ہزار کرتا ہوں۔چنانچہ جب ہم ان دو اعداد وشمار کا آپس میں مقابلہ کرتے ہیں۔گو (اگر اس وقت ایک ہزار احمدی سمجھے جائیں۔) ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک کو تین ہزار کر دیا ہے۔اک کو ہزار نہیں ، اک کو تین ہزار بنادیا ہے۔کیونکہ 3 ہزار کو ہزار کے ساتھ ضرب دیں، تب یہ موجودہ شکل ہمارے سامنے آتی ہے۔اور اگر 1892ء میں جماعت کی تعداد تین ہزار سمجھی جائے ، جو میرے نزدیک بہت زیادہ اندازہ ہے تو پھر بھی اس سے اک سے ہزار ہو دیں “ والی دعا اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی۔اور پچھتر سال کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کے نفوس کو ایک ہزار گنازیادہ کر دیا۔یہ معمولی زیادتی نہیں، حیرت انگیز زیادتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کا جہاں اظہار ہوتا ہے، وہاں عقل کی رسائی نہیں۔اللہ تعالیٰ کی غیر محدود قدرت اپنے بندوں پر جلوہ گر ہوتی ہے اور تمام اندازوں کو غلط کر کے رکھ دیتی ہے۔اگر یہ امید رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ مستقبل میں بھی اس جماعت کو اسی رنگ میں اور اسی حد تک قربانیاں دینے کی توفیق دے گا، جس طرح گزشتہ پچھتر سال وہ دیتا رہا ہے اور اس کے نتیجہ میں ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل بھی اسی رنگ میں ہوتے رہیں گے، یہ تعداد اگر اسی نسبت سے بڑھتی رہے تو آج سے پچھتر سال کے بعد تین ارب اور نو ارب کے درمیان ہو جائے گی۔جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر ہم اپنی دعاؤں سے اور اپنی تدبیر سے اور اپنی قربانیوں سے اور اپنی فدائیت اور جان شاری سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو اسی طرح جذب کرتے رہیں، جس طرح گزشتہ پچھتر سال میں ہم نے جذب کیا تھا تو اگلے پچھتر سال میں اسلام دنیا پر غالب آجائے گا۔اور نشاۃ ثانیہ کی جو ہم ہے، وہ پوری کامیابی کے ساتھ دنیا میں ظاہر ہو جائے گی۔خدا کرے کہ جماعت کو اسی طرح قربانیاں دینے کی توفیق ملتی رہے۔یہ بھی کہا گیا تھا کہ میں ان کے اموال میں برکت ڈالوں گا۔اب اموال کو ہم دیکھتے ہیں۔1892ء کے جلسہ سالانہ میں 1893 ء کے لئے چندوں کے وعدے دیئے گئے۔(وہ انتظام اس وقت قائم نہیں تھا، جو آج قائم ہے۔) اور وہ وعدے ساری جماعت کے سمجھے جانے چاہئیں۔کیونکہ تمام مخلصین جلسہ سالانہ پر جمع ہو جاتے تھے۔تو 1893ء کے لئے 1892ء کے جلسہ سالانہ پر جماعت نے ، جو وعدے 324