تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 317 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 317

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمود فر اکتوبر 1967ء پاس تو یہ نہیں، ہمارے پاس تو ذرائع نہیں کہ ہم تم تک پہنچیں اور تمہیں اسلام سکھائیں۔اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ساری عمر کام کرتے رہے اور جب پھل لگنے کا وقت آیا تو تھک کے بیٹھ گئے کہ ہم میں اب سکت نہیں کہ اپنی محنت کا پھل، جو شخص اللہ کے فضل سے ہمیں ملنے والا ہے، ہم اسے توڑیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ پچھپیں، تمہیں سال جہاں ان اقوام کے لئے بڑے نازک ہیں ، ہمارے لئے بھی یہ سال بڑے نازک ہیں۔یہ زمانہ ہمارے لئے انتہائی نازک ہے۔اس لئے کہ اس زمانہ میں ہماری ترقی کے بہت سے دروازے کھل رہے ہیں اور کھلیں گے، انشاء اللہ۔اگر ہم اپنی غفلت اور ستی کے نتیجہ میں ان دروازوں میں داخل نہ ہوں تو بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کو ہم حاصل کریں، اللہ تعالیٰ کے غضب کے مورد ہم بن سکتے ہیں۔پس خوف کا مقام ہے۔ہمیں سوچنا چاہیے۔ہمیں ڈرنا چاہیے بدنتائج سے۔اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے۔ہمیں ان فضلوں کو دیکھنا چاہیے، جو اللہ تعالیٰ ہم پر کر رہا ہے۔اور اس فضل کے نتیجہ میں ہماری ترقیات کے نئے سے نئے دروازے اور نئی سے نئی راہیں ہم پر کھول رہا ہے۔اور اگر ہم یہ کہیں کہ اب ہم سے آگے نہیں بڑھا جا تا تو یا درکھو کہ اسلام کے فدائی آگے تو ضرور بڑھیں گے۔مگر وہ کوئی اور قوم ہوگی، جسے اللہ تعالیٰ کھڑا کرے گا اور وہ ان راہوں پر ان کو چلائے گا۔مگر میں پوچھتا ہوں، آپ کیوں نہیں؟ آپ نے جن میں سے بعض نے تینتیس سال تک ان میدانوں میں قربانیاں دیں۔جن میں سے بعض نے تئیس سال تک ان میدانوں میں قربانیاں دی ہیں۔اب جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کی قربانیوں کو قبول کر کے غیر ممالک میں غلبہ اسلام کے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور اللہ اورمحمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کو یہ آواز دیتے ہیں کہ آؤ، آگے بڑھو، غلبہ اسلام کے سامان پیدا کر دیئے گئے ہیں۔مزید قربانیاں دوتا کہ اسلام کی فتح تم اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔اور آپ یہ کہیں کہ ہم تھک گئے ہیں، اب یہ فتوحات ہماری اگلی نسلیں دیکھ لیں۔ہم نہیں دیکھنا چاہتے۔کیا یہ جذبہ درست اور معقول ہوگا؟ کیا آپ اسے پسند کریں گے؟ میں نہیں سمجھتا کہ آپ کسی صورت میں بھی اس چیز کو پسند کریں۔پس میں اپنے بھائیوں کی خدمت میں بڑے درد کے ساتھ اور بڑے زور کے ساتھ یہ بات رکھنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ، جو نعمتیں ہم پر اس رنگ میں نازل کیں کہ ہماری قربانیوں کو قبول کیا ، آسمان سے فرشتوں کو نازل کیا ، دلوں میں عیسائیت کو مٹادیا اور ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ اگر ہم اپنی کوششوں کو اور اپنے عملوں کو اور اپنی محنتوں کو اور اپنی تدابیر کو اور اپنی جدو جہد کو اور مجاہدہ کو تیز سے تیز تر کر دیں تو خدا ایسا کر 317