تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 312

خطبہ جمعہ فرمودہ 27 اکتوبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں پیسے دے گا اور ہم آپ کے ملک میں مساجد خود تعمیر کریں گے۔ستے گرجے خرید کے انہیں مسجدوں میں تعمیر نہیں کریں گے۔اور بھی بہت سے باتیں مشاہدہ میں آئیں، جن سے میں نے نتیجہ نکالا کہ یورپ کی عیسائی دنیا عیسائیت سے نہ صرف بے تعلق ہو چکی ہے۔بلکہ متنفر بھی ہو چکی ہے۔اور اس حد تک وہ گندگی میں مبتلا ہو چکی ہے کہ خود حضرت مسیح ناصری علیہ السلام پر بڑی جرات اور دلیری کے ساتھ اس قسم کے ظالمانہ الزام لگا رہی ہے کہ جن کا زبان پر لانا بھی ہمارے لئے مشکل ہے۔کیونکہ ہم ان کو خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ نبی مانتے ہیں۔لیکن اب وہ جس گندگی میں مبتلا ہیں، انہوں نے یہاں تک کہ ان کے پادریوں نے بھی علی الاعلان یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی (نعوذ باللہ ) اسی گندگی میں مبتلا تھے۔اور گندے اخلاق ان میں پائے جاتے تھے۔پس وہ تختی محبت کی ، جو ان کے دلوں میں صدیوں سے قائم کی گئی اور قائم رکھی گئی تھی اور اس محبت کو اس انتہا تک پہنچادیا گیا تھا کہ ان کے ماننے والے انہیں خدا، خدا کا بیٹا ماننے لگ گئے تھے، وہ تختی تو اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے صاف کر دی۔اور یہ قو میں عیسائیت کو عملاً بھی اور عقیدہ بھی چھوڑ چکی ہیں۔صرف ایک نام باقی رہ گیا ہے۔اب تو شاید وہ نام سے بھی انکار کرنا شروع کر دیں۔ان حالات میں، میں نے سوچا کہ جماعت احمدیہ پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تو میں، جنہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے شیطانی خیالات سے ہمارے لئے آزاد کیا ہے، کیا ہم ان تک پہنچ کر اسلام کی حسین تعلیم ان کے دلوں میں بٹھانے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ نہیں؟ اور اس کوشش اور جدو جہد کے لئے ان ذمہ داریوں کو ہم نبھاتے ہیں یا نہیں، جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کی ہیں ؟ اور وہ قربانیاں ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں ، جو آج کی اسلامی ضرورت کا تقاضہ ہے؟ تو جیسا کہ میں نے ان قوموں کو ان الفاظ میں انذار کیا تھا کہ پیشگوئیوں کے مطابق اگلے چھپیں، تمیں سال تمہارے لئے بہت نازک ہیں۔اگر تم اپنے اللہ کی طرف، اپنے رب کی طرف رجوع نہیں کرو گے تو جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے، تمہاری قو میں تباہ ہو جائیں گی اور اس دنیا سے منادی جائیں گی۔ویسا ہی ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم آج کی ضرورت کو سمجھنے لگیں۔یہ پچھیں، تمہیں سال ہمارے لئے بھی بڑے اہم ہیں۔کیونکہ ایک موقع اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے، ان ممالک میں اسلام کو پھیلانے اور اسلام کو غالب کرنے کا۔اگر ہم اپنی بستیوں کے نتیجہ میں اس موقع کو گنوادیں گے تو ایک تو شاید ( خدا نہ کرے) غلبہ اسلام میں التواء ہو جائے۔غالب تو ہو گا اسلام۔کیونکہ خدا کا وعدہ ہے۔یہ ضرور پورا ہوگا۔لیکن ہماری غفلتوں اور کوتاہیوں 312