تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 15 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 15

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 جنوری 1966 ء مقابلہ میں ہی لڑی جارہی ہے۔اس جنگ کو الہی نوشتوں میں حق و باطل کی آخری جنگ قرار دیا گیا ہے اور اس میں فتح حاصل کر لینے کے بعد اسلام ساری دنیا پر غالب آجائے گا۔اور اللہ تعالیٰ کی توحید تمام بنی نوع انسان میں پھیل جائے گی۔اور دنیا کے تمام ملک اور اقوام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے سرشار ہو جائیں گی۔غرض یہ میدان ہے، جس میں ہماری جدو جہد جاری ہے۔لیکن ہمارے وسائل اور اسباب بہت محدود ہیں۔اور ہمارے مقابلہ میں دنیا کے اسباب اور طاغوتی طاقتیں بہت زیادہ اور دنیوی نقطہ نگاہ سے بہت بھاری ہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ نے ہماری حقیر کوششوں میں جہاں اپنے فضل سے پہلے ہی برکت رکھ دی ہے، وہاں اس نے ہمیں یہ گر بھی سکھایا ہے کہ اگر کسی طاقت کو جو کمزور ہے، صحیح طور پر کام میں لایا جائے ، پھر کوشش میں ایک تنظیم ہو اور جدوجہد منظم رنگ رکھتی ہے اور کسی منصوبہ بندی اور پلین (Plan) کے مطابق ہو رہی ہو تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کے نتائج ان اعمال کے مقابلہ میں بہت اچھے نکلتے ہیں، جو غیر منظم طور پر اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے کئے جاتے ہیں۔میرے ایک پیارے عزیز نے میری توجہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے 1952ء کے پہلے خطبہ جمعہ کی طرف مبذول کرائی ہے۔جس میں حضور نے جماعت اور جماعتی اداروں کو ایک منظم جد و جہد اور منصوبہ بندی کی طرف متوجہ فرمایا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر اور اپنی کوششوں کو منظم کرنے کے بغیر ہم اپنی کامیابیوں کی رفتار کو تیز سے تیز تر نہیں کر سکتے۔اس لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے کاموں کو اس طرح منظم کرنے کی کوشش کریں کہ جماعت کی طاقت کا ایک ذرہ بھی ضائع نہ ہو۔بلکہ ہمارے سامنے ایک وقتی مقصد اور او بجیکٹ (object) ہو، جسے ہم معین وقت میں حاصل کرنے کی کوشش کریں۔لمبے وقت کے لئے تو یہ صحیح ہے کہ ہمارا مقصد حیات اور سلسلہ احمدیہ کے قیام کی غرض ہی یہ ہے کہ طاغوتی اور شیطانی طاقتوں پر غلبہ حاصل کیا جائے۔اس غرض کے لئے ایک لمبے عرصہ تک جدوجہد کی ضرورت ہے۔ہو سکتا ہے کہ اس میں 80 سال لگ جائیں 100 سال لگ جائیں ، 150 سال لگ جائیں، دو سو سال لگ جائیں یا خدا جانے کتنا عرصہ لگ جائے؟ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی عقل و دماغ اور تصور اس لمبے زمانہ کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر لیتے ہیں اور اپنے مقصد کے حصول کے لئے بعض چھوٹے چھوٹے منصوبے بنا لیتے ہیں۔یعنی وہ تجویز کر لیتے ہیں کہ مثلاً اس سال میں ہم اپنے مقصد کا اتنا حصہ ضرور حاصل کر لیں گے۔اور پھر اس کے حصول کے لئے وہ اپنی پوری کوشش صرف کر دیتے ہیں۔اور پھر اس سال جس حد تک وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیابی حاصل کر لیں، اگلے سال وہ زیادہ تیزی کے ساتھ آگے قدم 15