تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 14 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 14

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 07 جنوری 1966ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم آپ سے ہر آن خوش رہے۔وہ آپ کو بھولے نہیں، وہ آپ کو فراموش نہ کرے۔بلکہ اس کی یاد میں آپ ہمیشہ حاضر ر ہیں اور جس طرح ایک دوست دوسرے دوست کو محبت کے ساتھ یاد کرتا ہے۔اسی طرح ہمارا آقا اور ہمارا مالک محض اپنے فضل سے ہمارے ساتھ دوستانہ معاملات کرتا چلا جائے۔برکت کے دوسرے معنوں کی رو سے ہم اس دعا میں یہ زیادتی بھی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ان عنایات میں زیادتی کرتا چلا جائے۔کیونکہ برکت کے ایک معنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غیر محسوس طور پر زیادتی کے بھی ہیں۔برکت کے تیسرے معنوں کے رو سے یہ دعا یوں بھی ہوگی کہ خدا کرے کہ آپ اور میں ان نیکیوں پر ثابت قدم رہیں، جو خدا تعالیٰ کو محبوب اور پیاری ہیں۔اور روحانی جہاد کے اس میدان میں ، جس کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے آج ہمارے لئے کھولا ہے اور جس میدان میں اس نے ہمیں لاکھڑا کیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی بیعت کرنے اور آپ کی اطاعت کا دعویٰ کرنے کے بعد ہم پیٹھ نہ دکھا ئیں اور ہمیشہ ثابت قدمی کے ساتھ شیطان کا مقابلہ کرتے چلے جائیں۔پس یہ سال نو مبارک ہو، آپ کے لئے بھی اور میرے لئے بھی۔ان معنوں میں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اعمال صالحہ کے بجالانے کی توفیق دیتا چلا جائے کہ جن کے نتیجہ میں ( اگر اور جب وہ انہیں قبول کر لیتا ہے تو اس کی نعمتیں آسمان سے نازل ہوتی ہیں۔یہ اعمال صالحہ ( یا خدا تعالیٰ کو محبوب اور مرغوب اعمال ) دو قسم کے ہیں۔ایک اعمال صالحہ تو وہ ہیں، جو ہم انفرادی طور پر خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے بجالاتے ہیں۔ہم نمازوں کو ادا کرتے ہیں، ہم رات کی تنہائی اور خاموشی میں اپنے رب کے حضور عجز اور انکسار کے ساتھ جھکتے ہیں اور اس سے اپنے مطالب کے حصول کے لئے دعائیں مانگتے ہیں۔اسی طرح سینکڑوں اور اعمال ہیں، جن کا ہماری ذات کے ساتھ تعلق ہے۔ہم تقویٰ کی باریک راہوں کی تلاش میں بعض کام کرتے ہیں یا بعض کو چھوڑ دیتے ہیں۔ایسے اعمال صالحہ ایک فرد کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔لیکن کچھ اعمال صالحہ اجتماعی حیثیت کے ہوتے ہیں۔یعنی تمام جماعت کو کچھ کوششیں ایسی کرنی پڑتی ہیں کہ جن کے بغیر انہی جماعتیں اور الہی سلسلے اپنے مطالب اور مقاصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔یہ ساری جد و جہد بنیادی طور پر شیطان، اس کے وسوسوں اور اس کے پھیلائے ہوئے باطل عقائد کے خلاف ہوتی ہے۔لیکن اس دنیا میں وہ مختلف شکلیں اختیار کرتی اور مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے۔اس وقت شیطان دجل کی شکل میں حق کے خلاف نبرد آزما ہے۔اور جماعت احمد یہ جو روحانی جنگ لڑ رہی ہے ، وہ شیطان کے 14