تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 296
خطبہ جمعہ فرمودہ 20اکتوبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم آپ کے دعوئی کے وقت مہذب اور فاتح مغربی طاقتوں کے مقابلہ میں کسی مشرقی طاقت کا کوئی وجود نہ تھا لیکن 1904 ء میں آپ نے دنیا کو یہ بتایا کہ عنقریب مہذب اور فاتح مغربی طاقتوں کے رقیب کی حیثیت میں دنیا کے افق پر ایسی مشرقی طاقتیں ابھرنے والی ہیں، جن کی طاقت کا لوہا مغربی طاقتوں کو بھی ماننا پڑے گا۔چنانچہ جلد ہی اس کے بعد جنگ روس و جاپان میں جاپان نے فتح پائی۔اور وہ ایک مشرقی طاقت کے طور پر افق دنیا پر نمودار ہوا۔پھر دوسری جنگ عظیم میں جب جاپان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو چین ایک مشرقی طاقت کی حیثیت میں افق دنیا پر اپنی پوری مشرقیت اور طاقت کے ساتھ نمودار ہوا اور انسانی تاریخ میں ان ہر دو طاقتوں کے عروج کے ساتھ ایک نیا موڑ آیا، جن کے اثرات انسانی تاریخ میں اتنے وسیع اور اہم ہیں کہ کوئی شخص ان سے انکار نہیں کر سکتا۔اور یہ جو کچھ ہوا، الہی منشاء اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے عین مطابق ہوا۔ہمارے زمانے کا دوسرا اہم واقعہ، جس سے قریباً ساری دنیا کسی نہ کسی رنگ میں متاثر ہوئی ہے، زار روس اور شاہی نظام کی کامل تباہی اور بربادی اور کمیونزم کا بر سراقتدار آنا ہے۔روسی انقلاب کا عظیم سانحہ، جس نے دنیا کی تاریخ کا رخ ایک خاص سمت موڑ دیا ہے، بھی آپ کی پیشگوئی کے عین مطابق منصہ ظہور میں آیا۔آپ نے 1905ء میں زار روس اور شاہی خاندان اور شہنشاہیت کی کامل تباہی اور زبوں حالی کی خبر دی - تھی۔اور یہ حیرت انگیز اتفاق ہے کہ اسی سال اس پیشگوئی کے چند ماہ بعد ہی وہ سیاسی پارٹی معرض وجود میں آئی، جوقریباً بارہ، تیرہ سال بعد شاہی خاندان اور شاہی نظام حکومت کی تباہی کا باعث بنی۔اور اس کے بعد کمیونزم پہلے روس میں اور پھر دنیا کے دیگر مقامات میں برسراقتدار آیا۔یہ ایک ایسی کھلی ہوئی بات ہے، جس کے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔زار روس کی تباہی اور کمیونزم کا غلبہ اور اقتدار تاریخ انسانیت کا نہایت دکھ دہ المیہ اور اہم ترین واقعہ ہے۔جس کے پڑھنے سے گودل میں دردتو پیدا ہوتا ہے لیکن اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔دنیا کا کوئی ملک بھی بشمول آپ کے ملک کے اس کے اثر سے بچ نہیں سکا۔لیکن ہمارے لئے ان تبدیلیوں پر حیران ہونے یا تشویش کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ ان تغیرات کی سمت، رفتار اور شدت کے بارے میں ہمیں مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے ہی خبریں دے دی تھیں۔اور آئندہ اپنے وقت پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کس طرح یہ تغیرات خدائی ارادے کی تکمیل میں مد ہوئے۔ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسیح موعود اور مہدی معہود کے زمانہ میں دو طاقتیں ایسی ابھریں گی کہ دنیا ان میں بٹ جائے گی اور کوئی اور طاقت ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔پھر وہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ کر کے 296