تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 293
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبه جمعه فرموده 20 اکتوبر 1967ء میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ 1835 ء انسانی تاریخ میں ایک نہایت ہی اہم سال تھا۔کیونکہ اس سال شمال ہند کے ایک غیر معروف اور گمنام گاؤں قادیان کے ایک ایسے گھرانہ میں ، جو ایک وقت تک اس علاقہ کا شاہی گھرانہ رہنے کے باوجود شہزادگی کی سب شان و شوکت کھو بیٹھا تھا، ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی ، جس کے لئے مقدر تھا کہ وہ نہ صرف روحانی دنیا میں بلکہ مادی دنیا میں بھی ایک انقلاب عظیم پیدا کرے۔اس بچے کا نام والدین نے مرزا غلام احمد رکھا۔اور بعد میں وہ مرزا غلام احمد قادیانی کے نام سے اور مسیح اور مہدی کے خدائی القاب سے مشہور ہوا ، علیہ السلام۔مگر قبل اس کے کہ میں اس روحانی اور مادی انقلاب عظیم پر روشنی ڈالوں ، میں آپ کی سوانح نہایت مختصر الفاظ میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔تاریخی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی پیدائش 13 فروری 1835ء میں ہوئی۔اور جس زمانہ میں آپ پیدا ہوئے ، وہ زمانہ نہایت جہالت کا زمانہ تھا اور لوگوں کی تعلیم کی طرف بہت کم توجہ تھی۔یہاں تک کہ اگر کسی کے نام کوئی خط آتا تو اسے پڑھوانے کے لئے اسے بہت محنت اور مشقت برداشت کرنی پڑتی۔اور بعض دفعہ تو ایسا بھی ہوتا کہ ایک لمبا عرصہ خط پڑھنے والا کوئی نہ ملتا۔جہالت کے اس زمانہ میں آپ کے والد نے بعض معمولی پڑھے لکھے اساتذہ آپ کی تعلیم پر مقرر کئے۔جنہوں نے آپ کو قرآن کریم پڑھنا سکھایا۔مگر وہ اس قابل نہ تھے کہ معارف قرآنی اور اسرار روحانی کی ابتدائی تعلیم بھی آپ کو دے سکتے۔اس کے علاوہ ان اساتذہ نے عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم آپ کو دی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کو عربی اور فارسی پڑھنی آگئی۔اس سے زیادہ آپ نے اساتذہ سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی۔سوائے طب کی بعض کتب کے، جو آپ نے اپنے والد سے پڑھیں۔جو اس زمانہ میں ایک مشہور طبیب تھے۔یہ تھی وہ کل تعلیم ، جو آپ نے درسی طور پر حاصل کی۔اس میں شک نہیں کہ آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا اور آپ اپنے والد صاحب کے کتب خانہ کے مطالعہ میں بہت مشغول رہتے تھے۔لیکن چونکہ اس زمانہ میں علم کی خاص قدر نہ تھی اور آپ کے والد کی خواہش تھی کہ وہ دنیوی کاموں میں اپنے والد کا ہاتھ بٹائیں اور دنیا کمانے اور دنیا میں عزت کے ساتھ رہنے کا ڈھنگ سیکھیں، اس لئے آپ کے والد آپ کو کتب کے مطالعہ سے ہمیشہ روکتے رہتے تھے اور فرماتے تھے کہ زیادہ پڑھنے سے تمہاری صحت پر برا اثر پڑے گا۔ظاہر ہے کہ اس قدر معمولی تعلیم کا مالک وہ عظیم کام ہرگز نہیں کر سکتا تھا، جو اللہ تعالیٰ آپ سے لینا چاہتا تھا۔اس لئے خدا خود آپ کا معلم اور استاد بنا اور خود اس نے آپ کو معارف قرآنی اور اسرار روحانی اور 293