تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 288 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 288

خلاصہ تقریر فرموده 12 اکتوبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہمارے دل ہمارے محبوب مولا کے قدموں میں پڑے ہیں یا دنیا کی لذت کے لئے بے چین ہیں ؟ اگر ہم دنیا کو دین پر مقدم کرنے والے ہوں گے۔تو وہ لوگ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ آپ ہمارے دلوں کو کیسے خدا تعالیٰ کے قدموں میں رکھیں گے جبکہ اپنے دلوں پر آپ کو قدرت حاصل نہیں ہے اور وہ آپ کے قابو میں نہیں ہیں ؟؟؟ اگر ہم نے اپنی عظیم ذمہ داری کو سمجھ لیا تو انشاء اللہ ان فضلوں کے وارث ہوں گے، جن کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مسیح پاک علیہ السلام سے کر رکھا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کے مردوں اور عورتوں کو بڑی بشارتیں دی ہیں۔علاوہ ازیں ہمارا یہ ایمان بھی ہے کہ موت کے ساتھ ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ موت سے ایک نئی زندگی کی ابتداء ہوتی ہے۔اگر کوئی اخروی زندگی میں نعمتوں کا خواہش مند ہے تو اسے اس دنیا میں بھی خدا کی رضا کی جنت حاصل کرنے کی سعی کرنی ہوگی۔اور یہ ہم سب کا ذاتی فرض ہے۔کیونکہ کوئی دوسرا ہمیں پکڑ کر اس جنت میں داخل کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے بھی تمثیلی رنگ میں فرمایا تھا۔اگر میرے ساتھ چلنا ہے تو اپنی صلیب خود اٹھاؤ“۔دنیائے عیسائیت نے اس تمثیل کو سمجھا نہیں اور غلط عقیدہ پر قائم ہو گئے۔لیکن ہمارا عقیدہ تو یہ ہے، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ” میرے بعثت کی غرض یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑ دوں ، جس نے حضرت مسیح ناصری کی ہڈیوں کو توڑا اور جسم کو زخمی کیا تھا۔سو واضح ہو کہ اگر ہم نے اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنی ہے اور شیطانی ظلمتوں سے نجات حاصل کرنی ہے تو ہمیں ایسا مجاہدہ کرنا ہے، جو ہمیں نور کی فضا میں لے جائے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں پہنچا دے۔اگر آپ اپنے دلوں کو اپنے محبوب حقیقی کے قدموں میں رکھ دیں تو ان دلوں کو وہیں سکون وقرار ملے گا۔جب ایک دل کی یہ کیفیت ہو جاتی ہے تو اسے کہیں بھی قرار نہیں ملتا۔مسلمان کی تمام زندگی ہی ایک مجاہدہ ہے۔کبھی تو کان سے مجاہدہ کرتا ہے اور کبھی آنکھ سے اور کبھی دوسرے اعضاء و جوارح سے مجاہدہ کرتا ہے۔بچے کی پیدائش پر ان کے کان میں اذان دینے میں ایک حکمت یہ ہے کہ اسے یہ سبق دیا جائے کہ مجاہدہ کی زندگی شروع ہو چکی ہے۔چند لمحوں کا وہ بچہ اذان کی آواز کو محفوظ کر لیتا ہے۔اور ایک مسلمان، جس کی زندگی کی ابتداء مجاہدہ کے پیغام سے شروع ہوتی ہے، تمام زندگی جد و جہد کرتا رہتا ہے۔حتی کہ جس روز وہ اس دنیا کو چھوڑتا ہے تو فرشتے اسے کامیابی کی بشارت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آؤ اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں داخل ہو جاؤ، جس کے دروازے تمہاری مساعی جمیلہ کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے کھولے ہیں۔288