تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 281
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطبه جمعه فرموده 29 ستمبر 1967ء احمدیت کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے قیام توحید اور غلبہ اسلام کی عظیم مہم جاری کی ہے وو خطبہ جمعہ فرمودہ 29 ستمبر 1967ء جماعت میں یہ احساس زندہ اور بیدار رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرما کے اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کے قیام سے توحید خالص کے قیام اور غلبہ ء اسلام کی ایک عظیم مہم جاری کی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اس زمانہ میں اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے گا۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوئے تلے دنیا کی ہر قوم کی گردن کو لے آئے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ مخالف کی تدبیریں، اگر اس حد تک بھی پہنچ جائیں کہ ان کے نتیجہ میں پہاڑ اپنی جگہوں سے ہلا دیئے جائیں ، تب بھی وہ کامیاب نہیں ہوں گے بلکہ نا کام ہی رہیں گے۔کامیابی اللہ تعالیٰ کی اس خادم اسلام جماعت کو ہی نصیب ہوگی۔اس مہم کے اجراء سے جماعت پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اور اس احساس کو زندہ اور بیدار رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی اور ایثار کا نمونہ ہمیں دکھانا پڑتا ہے۔اور آئندہ نسلوں میں بھی اس احساس کو بیدار رکھنا ضروری ہے۔کیونکہ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے ، وہ ایک نسل کا کام نہیں۔اس وقت بھی ہماری اکثریت تابعین کی ہے۔یعنی انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو دیکھا نہیں۔دیکھنے والے تو بہت تھوڑے رہ گئے ہیں۔لیکن صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے والے کثرت کے ساتھ اس وقت جماعت احمدیہ میں ہیں۔تو احمدیت کے لحاظ سے آئندہ نسل، احمدیت کی تیسری نسل ہے۔اور ابھی ہم کامیابی کی راہوں پر چل رہے ہیں، اپنی منزل مقصود تک نہیں پہنچے۔اور نہیں کہا جاسکتا کہ کب ہم اپنی منزل مقصود تک پہنچیں گے؟ میں نے بڑا غور کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہم پر ، جو دوسری نسل احمدیت کی اس وقت ہے اور ہماری اگلی نسل پر ، جو اس وقت بچے ہیں، ان دو نسلوں پر قربانیاں دینے کی انتہائی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کیونکہ ہم ایک ایسے زمانہ میں داخل ہو چکے ہیں، جس میں ترقی اسلام کے لئے جو مہم جاری کی گئی ہے، وہ اپنے انتہائی نازک دور میں داخل ہو چکی ہے۔ہمیں اور آنے والی نسل کو انتہائی قربانیاں دینی پڑیں ما۔تب ہمیں اللہ تعالیٰ وہ عظیم فتوحات عطا کرے گا، جس کا اس نے ہم سے وعدہ کیا ہے۔281