تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 282 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 282

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 29 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم پس ضروری ہے کہ ہم اپنے بچوں کے دلوں میں بھی اس احساس کو زندہ کریں اور زندہ رکھیں کہ عظیم فتوحات کے دروازے اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے کھول رکھے ہیں۔اور ان دروازوں میں داخل ہونے کے لئے عظیم قربانیاں انہیں دینی پڑیں گی۔اور ان سے ایسے کام کرواتے رہیں کہ ان کو ہر آن اور ہر وقت یہ احساس رہے کہ غلبہ اسلام کی جو مہم اللہ تعالیٰ نے جاری کی ہے، اس میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ہم نے بھی کچھ کنٹری بیوٹ کیا ہے۔ہم نے بھی اس کے لئے کچھ قربانیاں دی ہیں۔ہم بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ویسے ہی امیدوار ہیں ، جیسا کہ ہمارے بڑے ہیں۔وو اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت کے سارے بچے اور وہ ماں باپ، جن کا ان بچوں سے تعلق ہے، اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس بات کو اچھی طرح جانے لگیں کہ جب تک بچے کو عملی تربیت نہیں دی جائے گی، اللہ تعالیٰ کی فوج کا وہ سپاہی نہیں بن سکے گا۔اگر وہ دین کے لئے ابھی سے ان سے قربانیاں لیں تو یہ نسل اللہ تعالیٰ کے فضل سے پوری طرح تربیت یافتہ ہوگی۔اور جب ان کے کندھوں پر جماعت کے کاموں کا بوجھ پڑے گا تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے اور ان کو نباہنے کے لئے کوشاں رہیں گے۔میرے دل میں یہ احساس ہے کہ جماعت نے بحیثیت مجموعی اس کی طرف وہ توجہ نہیں دی، جو اس کو دینی چاہئے۔بڑے نیک نمونے بھی ہیں۔ہماری جماعت میں ایسے بچے ہیں ، جن کو تحریک نہیں کی گئی اور پھر بھی ان کے دل میں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہمارے بڑوں پر ہی نہیں ، ہم پر بھی قربانیوں کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور وہ قربانیاں دیتے ہیں۔بچے کا ذہین اس قسم کے خیالات کا اظہار صرف اس وقت کر سکتا ہے، جب وہ یہ دیکھے کہ اس کے ماحول میں ایسی باتیں ہو رہی ہیں۔اگر اس کے ماں باپ کو اسلام کی ضرورت کا خیال ہی نہ ہو، اگر اس کے ماں باپ اسلام کی ضرورتوں کے متعلق اپنے گھر میں باتیں ہی نہ کرتے ہوں، اگر اس کے ماں باپ اس کا تذکرہ گھر میں نہ کرتے ہوں کہ ہمیں اپنی ضرورتیں چھوڑ دینی چاہئیں اور آج اسلام کی ضرورت وو " کو مقدم رکھنا چاہیے۔اگر یہ نہ ہو گھر کا ماحول تو گھر کے بچوں کی تربیت ایسی ہو ہی نہیں سکتی۔بی احساس کہ میری ضرورتیں اسلام کی ضرورتوں پر قربان ہو جانی چاہئیں ، اگر ہر بچے کے دل میں پیدا ہو جائے تو ہمیں کل کی فکر نہ رہے۔ہم اس یقین سے پر ہو جائیں کہ جب آئندہ کسی وقت ہمارے بچوں کے کندھوں پر جماعت احمدیہ کا بوجھ پڑے گا، وہ اسے خوشی اور بشاشت کے ساتھ اور اس بوجھ کا حق ادا کرتے ہوئے ، اس کو ادا کریں گے۔282