تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 275
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء ہے کہ جو تجھ سے پیار کرے اور جسے تو پیار کرے، اسے تو دو جہاں دے دیتا ہے۔لیکن جو تیرا ہو جائے ، وہ ان دونوں جہانوں کو کیا کرے؟ اس کے نزدیک یہ بے معنی چیز ہیں۔تو اصل چیز یہ ہے کہ رضاء الہی فضل الہی کے نتیجہ میں ہمیں حاصل ہوئی ہے۔ہمیں ہر چیز قربان کر کے اس رضاء الہی کو ہاتھ سے کھو نہ دینا چاہئے۔اس لئے جو قربانی بھی ہم سے مانگی جائے ، بشاشت سے ہمیں دینی چاہئے۔کیونکہ جو ہمیں ملا ہے، یہ دنیا اس کی قیمت لگاہی نہیں سکتی ، اندازہ بھی نہیں کرسکتی۔اور جو ہم سے مانگا جارہا ہے، وہ چند نکے ہیں۔پھر ہم پر تیسرا یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اس اتحاد کو جماعت کے اندر قائم رکھیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک معجزہ سے یہ اتحاد ہم میں پیدا کیا ہے اور قائم رکھا ہے۔وہ ہم سے یہی چاہتا ہے کہ ہم منافق کے نفاق کو کامیاب نہ ہونے دیں۔منافق جو ہے، وہ ادھر کی ادھر بات نکالتا ہے، وہ جھوٹی باتیں کرتا ہے۔اور منافق کی علامت ہی یہ ہے کہ وہ جھوٹ بولتا ہے۔اور جس راہ سے بھی فتنہ پیدا کر سکے، وہ کرتا ہے۔ایک ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو جمع کیا ہے۔جہاں تک اس دل کا تعلق ہے، جس کے ساتھ اس ہاتھ کا تعلق ہے ، دل سمجھتا ہے کہ مجھ میں کوئی طاقت کوئی علم، کوئی بزرگی ، کوئی خوبی ، کوئی حسن نہیں۔لیکن اس کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ جس چیز کی بھی تمہیں ضرورت ہوگی ، وہ میں مہیا کروں گا۔کسی کے لینے دینے کی ضرورت نہیں، خواہ وہ بادشاہ وقت ہی کیوں نہ ہو۔اور کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ، خواہ وہ ساری دنیا کے انسان ہی کیوں نہ ہوں۔اور کسی ہستی کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں، خواہ وہ عظیم ترین رفعتوں کی مالک ہی کیوں نہ ہو۔جب تم میرے ہو گئے تو پھر تمہیں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔لیکن منافق آتا ہے اور اس اتحاد (مرکزی نقطہ) پر ضرب لگا کے اسے کمزور کرنا چاہتا ہے۔وہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔پھر بھی ہمیں ہمیشہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ہم نے اس اتحاد کو جماعت میں قائم رکھنا ہے، ہر قربانی دے کر۔اور منافق تو اللہ تعالیٰ نے بڑی حکمتوں کے ساتھ ہمارے ساتھ لگایا ہوا ہے۔اس کو ہم نے کامیاب نہیں ہونے دینا۔منافق کی مثال وہ پن ہے، جس کی ایک نوک ہے۔اس کی ایک نوک آپ کو چھ سکتی ہے، وہ پن آپ کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔اگر کوئی شخص اپنے اس بچے کے بستر پر جس نے رات کو امتحان کی تیاری کے لئے پڑھنا ہو، ایک پن اس طرح لگا دے کہ چھن ہو مگر زخم بھی نہ پڑے کہ اگر یہ کرسی چھوڑ کے لیے تو پن اس کو چبھ جائے، سونے نہ دے تو اس باپ کو ظالم نہیں کہیں گے، بڑا پیار کرنے والا کہیں گے۔کیونکہ اس نے ہلکی سی تکلیف سے جاگتے رہنے کے سامان بھی پیدا کر دیئے۔اور جو تکلیف واقع میں پہنچ سکتی تھی ، اس سے محفوظ بھی کر لیا۔کیونکہ پن پرک سے زیادہ اور کوئی سامان نہیں کیا گیا۔یہ پن 275