تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 276
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم کی وہ نوک ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے پہلو میں رکھی ہوئی ہے۔چھتی تو ہے لیکن ہمارے جسم پر زخم نہیں پیدا کرتی۔نہ کرسکتی ہے، جب تک ہم زندہ ہیں۔جب مر جائیں اور ساری ٹہنیاں خشک ہو جائیں تو ایک خشک، دوسرے خشک میں فرق نہیں رہتا۔نہ اس درخت کو کوئی پرواہ ہوتی ہے، سارے جو مر گئے۔ابھی تو ہم نے بڑا عرصہ زندہ رہنا ہے اور ہم نے ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے۔اور ساری دنیا کو محد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے فتح کرنا ہے۔اور ہر دل میں تو حید خالص کو قائم کرنا ہے۔ابھی ہم نے بڑے کام کرنے ہیں، بڑی ذمہ داریاں ہیں، بڑی قربانیاں اللہ تعالیٰ ہم سے لے گا۔تو اس وقت تک کہ ہم خدا کی نگاہ میں زندہ رہیں، یہ پن کی نوک جو ہے، ہمارے جسموں کے ساتھ لگی رہے گی۔اگر کوئی فرد جماعت کو نقصان تو نہیں پہنچا سکتا۔) بے وقوفی سے پن کا زائد حصہ بھی باہر نکال لے اور پھر اپنے جسم کے اندر خود ہی چھولے تو یہ اس کی بڑی حماقت ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس قسم کی حماقت سے محفوظ رکھے۔تو ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم چوکس اور بیدار ر ہیں اور اس اتحاد کو کمزور نہ ہونے دیں، جو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل نے ہم میں پیدا کیا ہے۔یہ اتحاد اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے۔ایک چھوٹی سی جماعت کس شمار میں ہیں آپ اس دنیا میں ! اندازہ کر لیں !! میرا یہی اندازہ ہے،Just Three Million۔بس تمیں لاکھ سے کچھ زائد ساری دنیا میں۔اور دنیا کی آبادی کے لحاظ سے تمہیں لاکھ حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں؟ دنیا آپ کی کیا پرواہ کرسکتی ہے؟ ایک، ایک ملک تمیں لاکھ سے زیادہ آدمی اپنی مصلحتوں کی بناء پر اور بعض دنیوی مقاصد کے حصول کے لئے قربان کر دیتے ہیں۔اگر دنیامل کے آپ کو قربان کر دینا چاہے تو آپ کے وجود کی قربانی کا احساس بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہو سکتا۔اسی طرح ہی انسان دنیا میں چلتے پھرتے نظر آئیں گے۔لیکن خدا نے کہا کہ میں تمہارا خیال رکھتا ہوں اور میں نے تمہیں اپنے لئے چنا ہے۔تم میرے بنے رہو، پھر دیکھو کہ دنیا کس طرح میری قدرتوں کے نظارے کس رنگ میں اور کس طور پر اور کس طریق سے دیکھتی ہے !! اتنا بڑا فضل اس جماعت پر ہواور پھر وہ ستیاں دکھائے !!! میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ سستیاں دکھاتے ہیں۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا اور اصل میرے مخاطب وہی ہیں کہ جو نسبتاً کمزور ہیں۔اب نسبتا کمزور کا برداشت کرنا بھی کم از کم میرے لئے مشکل ہے۔جو کچھ مجھے نظر آ رہا ہے، دنیا جس جہت کی طرف حرکت کر رہی ہے، جن مصیبتوں میں انسان گرفتار ہونے والا ہے، جس دوا کی اسے ضرورت پڑنے والی ہے، اس دوا کو مہیا کرنے والے سوائے آپ کے اور کوئی نہیں۔ساری دنیا کا آپ کو خدا تعالیٰ نے استاد اور امیر بنایا ہے۔جو فیصلہ ہو چکا ہے۔اور آپ استاد اور 276