تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 271
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء احسان ہے۔خداوند کریم نے واضح الفاظ میں یہی کہا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں ، جو اس طرح کی محبت دلوں میں پیدا کر سکتی ہو۔میں ان کو انتباہ تو بڑا سخت کرتا تھا۔ان کو یہی کہتا تھا کہ دیکھو، انسان نے ایٹم بم اور ہائیڈ روجن بم بنالئے ، ساری دنیا میں جتنے بھی ایٹم اور ہائیڈروجن بم ہیں، وہ سارے مل کر بھی ایک دل کو بدل نہیں سکتے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو مذہب دنیا میں بھیجا جاتا ہے، وہ لاکھوں اور کروڑوں دلوں کو بدلتا چلا جاتا ہے۔اس واسطے مذہب کے میدان میں لڑائی جھگڑے کا نہ کوئی فائدہ ہے، نہ کوئی معقولیت ہے۔امن اور صلح کی فضا میں ہم سے یہ فیصلہ کرو کہ عیسائیت کچی ہے یا اسلام سچا ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو مختلف دعوت ہائے فیصلہ دنیا کو دیئے ، ان میں سے تین میں نے اس سفر میں ان کے سامنے رکھے۔دوان پادریوں کو دیئے اور ان کو کہا کہ جہاں تم نے مجھے ملنے سے قبل دنوں مشورہ کیا، اب تم دن اور ہفتے لگاؤ اور سوچو اور کمیٹی آف ایکوال کو اس بات پر راضی کرو کہ ہمارے ساتھ ان طریقوں پر فیصلہ کرے کہ اسلام سچا ہے یا عیسائیت کچی ہے؟ مجھے امید نہیں کہ وہ اس بات کو مانیں گے۔کیونکہ وہ اپنی کمزوریوں کو سمجھتے ہیں، زبان سے تسلیم کریں یا نہ کریں۔تو یہ ایک عظیم احسان مجھے نظر آیا کہ وہ چھپی ہوئی محبت یعنی جس کا بہت سا حصہ چھپا ہوا تھا، وہ میرے جانے سے ظاہر ہوا۔اور عجیب رنگ میں ظاہر ہوا۔گو پہلے بھی میں نے ایک دو جگہ بتایا ہے کہ سکنڈے نیویا کے باشندے جو ہیں، وہ پبلک میں لوگوں کے سامنے اپنے جذبات کے اظہار کو اتنا معیوب سمجھتے ہیں کہ موت کو اس سے بہتر سمجھتے ہیں۔ہمارے ایک آنریری مبلغ ہیں۔ہمارے امام صاحب کہتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس تھے کہ ان کے والد کی وفات کی خبر آئی۔تو انہوں نے امام صاحب کو بھی نہیں بتایا۔چہرہ پر بھی کوئی آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے کہ والد فوت ہو گیا ہے۔لیکن اب ان کا یہ حال تھا کہ دن میں دو، تین مرتبہ ان کی آنکھیں پر نم ہو جاتیں۔ہمارے ناروے کے ایک مبلغ ہیں، وہ مجھے ملنے آئے ، ان سے بات نہ کی جائے۔ان کے جسم پر رعشہ طاری تھا اور وہ کانپ رہے تھے ، زبان ان کی چل نہ رہی تھی۔میں نے انہیں ادھر ادھر کی باتوں میں لگا کے یہ کوشش کی کہ وہ اپنے نفس پر قابو پالیں۔وہ اپنی بیوی اور بچی کا نام رکھوانا چاہتے تھے۔بیوی کا نام میں نے محمودہ رکھا اور بچی کا نام میں نے نصرت جہاں رکھا ، جس سے وہ بہت خوش ہوئے۔اور میں نے سمجھا کہ اب یہ اپنے قابو میں آگئے ہیں۔لیکن اس کے بعد پھر ہونٹ ہلنا شروع ہوئے اور صرف اتنا کہا کہ جو دل 271