تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 262
خطبہ جمعہ فرمود و 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم بھی مجھے پسند نہ آیا۔اسے بھی میں نے ایک طرف رکھ دیا۔اگلے دن صبح جب پھر میں لکھنے بیٹھا تو وہ میں نہیں تھا، جو لکھ رہا تھا۔پیچھے سے مضمون آرہے تھے اور میری قلم ان کو لکھتی جارہی تھی۔عملاً یہ ہوا کہ جب ایک فقرہ ختم ہوا تو اگلا جملہ خود قلم لکھ گئی۔تو ایک محبت اور علم کا چشمہ تھا۔جبکہ اللہ تعالی نے ایک نمونہ اس طرح ظاہر کیا۔وہ پینتالیس منٹ کا مضمون بن گیا۔بڑا زور والا، بڑے مضبوط دلائل پر مشتمل اور بڑی وضاحت سے، جھنجھوڑ کے، انتباہ کرنے والا اور وارننگ دینے والا۔میں نے جب اندازہ لگوایا تو انہوں نے منتظمین نے ) کہا کہ یہ پندرہ بیس منٹ میں تو ختم نہیں ہوگا۔جو مطالبہ تھا ان ملکوں کا کہ آپ کا کوئی مضمون پندرہ ، بیس منٹ سے زیادہ کا نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ تو پینتالیس منٹ کا ہے۔تو میں نے اپنی طبیعت کے مطابق کہا کہ جو مرضی ہے، کاٹ دو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس کو پندرہ ، نہیں منٹ کے اندر لے آؤ۔ہمارے دوست جو کام کر رہے تھے ، انہوں نے کہا کہ ایک فقرہ بھی نہیں کئے گا۔کیونکہ کوئی فقرہ ہمیں نظر نہیں آیا ، جو کٹنے کے قابل ہو۔تو میں نے کہا کہ پھر رہنے دو، دیکھیں گے، وہاں کیا ہوتا ہے؟ جب ہم فرینکفرٹ پہنچے تو تین ہمارے مبلغ تھے۔ان کو میں نے ایک کمرے میں بٹھا لیا اور کہا کہ یہ مضمون پڑھو اور مجھے رائے دو کہ آیا، تمہارے ملک کے حالات ایسے ہیں کہ میں یہ پڑھ دوں ؟ یہ سارا انہوں نے پڑھا، مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ بالکل نہیں پڑھنا چاہئے۔ہمارے ملک کے حالات ایسے ہیں کہ یہ یہاں نہ پڑھا جائے۔میں نے وہ بند کر دیا۔اور اپنی عادت کے مطابق پھر اکثر سوائے ایک آدھ جگہ کے، جہاں نوٹ لئے ، زبان پہ جو آتا تھا، وہ میں کہ دیتا تھا۔آدھ گھنٹہ کی پریس کانفرنس، ہر قسم کے انہوں نے سوال پیش کئے۔پریس کانفرنس کے علاوہ ڈیڑھ گھنٹہ کا عیسائی سوسائٹیز کے نمائندوں کے ساتھ ایک انٹرویو تھا۔( کوپن ہیگن میں ) وہ تین سوسائٹیوں کے نمائندے تھے اور بارہ افراد پر مشتمل تھے۔جن میں سے اکثر پادری اور جو باقی تھے وہ سکالر تھے۔اور انہوں نے اس انٹرویوکو اتنی اہمیت دی کہ انہوں نے مجھ سے اس وقت ، وقت لیا، جب میں کو پر بیگن آنے پہلے جرمنی میں پھر رہا تھا۔پھر انہوں نے (جیسا کہ ان کے لیڈر نے مجھے بتایا کہ ہم نے کئی دن میٹنگیں کی تھیں اور اب آپ کے پاس آنے سے پہلے تین گھنٹے سر جوڑا اور مشورہ کیا ہے اور ایک سوال نامہ تیار کیا ہے۔کاپی کھول کر کہنے لگا کہ یہ ہم نے سوال لکھے ہیں۔اس سے آپ سمجھ لیں کہ کتنی اہمیت انہوں دی۔کئی گھنٹے وہ یہ غور کرتے رہے تھے کہ ہم کیا سوال کریں، کیا نہ کریں؟ کس مقصد کے پیش نظر ہم سوال کریں؟ مجھے تو کچھ پتہ نہیں تھا کہ انہوں نے کیا مشورے کئے اور وہ کیا حاصل کرنا چاہتے تھے؟ 262