تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 261 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 261

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم - خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء ہیں۔میں نے کہا، بڑی اچھی بات ہے۔میں لنڈن آکے بتاؤں گا کہ کس دن اور کس وقت ؟ چنانچہ ان کا نمائندہ آیا۔اس کو میں نے خود ہی کہہ دیا کہ آج شام کو چائے ہمارے ساتھ پینا۔گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹے تک باتیں کرتا رہا اور پھر اس نے ”ٹائم لنڈن میں بڑا اچھا نوٹ دیا۔اور بجائے اس کے کہ ساری اسلامی دنیا خوش ہوتی ، ساری دنیا ویسے بڑی خوش ہوئی کہ یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ اسلامی دنیا خوش نہیں ہوئی۔لیکن اسلامی دنیا میں م، ش جیسے دو، چار آدمی ایسے بھی ہیں، جو خوش نہیں ہوتے۔اس سے اسلامی دنیا پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔میں اتنی وضاحت کردوں کہ بعض دفعہ ہمارے احمدی بھی کہہ دیتے ہیں، اسراف کے رنگ میں کہ خوش نہیں ہوئے ، یہ غلط بات ہے۔میں آگے بتاؤں گا۔خوش ہوئے اور ہوتے ہیں۔لیکن اس قسم کے آدمی ہمیشہ رہے اور ہمیشہ رہیں گے۔ان کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اخباروں کے ذریعہ نازل ہوتا ہوا، ہمیں نظر آیا۔ہمارا اندازہ تھا۔کہ اگر لاکھوں روپیہ بھی ہم خرچ کرتے تو اس قسم کی تبلیغ اور اشاعت اسلام ہمارے لئے ممکن نہ ہوتی، جتنی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مفت میں ہو گئی۔تیسر افضل یا تیسر اسلسلہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کا یہ ہے، اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔آپ کے لئے ہے تو مشکل اس کا سمجھنا۔کیونکہ یہ واردات مجھ پر گزری ہے کہ جس چیز کی ضرورت ہوتی تھی ، وہی مجھے وہ سمجھا دیتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی ایسی عجیب شان میں نے دیکھی ہے کہ میں اندھیرے میں ہوتا تھا اور سوال کرنے والا روشنی میں ہوتا تھا۔اس نے اپنی ایک سکیم بنائی ہوئی ہوتی تھی کہ یہ یہ سوال کرنے ہیں اور میں اندھیرے میں ہوتے ہوئے بھی اس کو ایسا جواب دیتا تھا کہ وہ حیران رہ جاتا تھا۔اور جو اس کا مقصد ہوتا ، وہ ظاہر ہی نہ ہوتا تھا۔اس کا قصہ یوں ہے، ہے لمبا اگر آپ اکتائیں نہ میں بولتا جاتا ہوں، ابھی کچھ زیادہ وقت نہیں ہوا۔وہاں سے مطالبہ آیا کہ آپ لکھی ہوئی تقریریں کریں۔عام طور پر مجھے لکھی ہوئی تقریر پڑھنے کی عادت نہیں۔اور اس وجہ سے کچھ گھبراہٹ بھی ہوتی ہے لکھ کر پڑھنے سے۔زبانی بولنے سے اتنی گھبراہٹ نہیں ہوتی۔اور دعا کے بغیر تو نہ میں کبھی بولتا ہوں اور نہ اس پر یقین رکھتا ہوں کہ بغیر دعا کے بولا جائے۔لیکن بہر حال عادت ہوتی ہے۔وہ زور دے رہے تھے کہ لکھی ہوئی تقریر پڑھیں۔جب بہت زور دیا تو میں نے کہا، اچھا لکھنا شروع کرتے ہیں۔پہلے میں نے فرینکفرٹ میں تقریر کرنے کی نیت سے نوٹ لکھنا شروع کیا۔جب لکھ چکا اور اسے پڑھا تو مجھے پسند نہ آیا۔اسے ایک طرف رکھ دیا۔پھر میں نے ایک ست کو کہا کہ میں ڈکٹیٹ کراتا ہوں، تم لکھتے جاؤ۔جب میں ڈکٹیٹ کروا چکا اور انہوں نے پڑھا تو وہ 261