تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 260
خطبہ جمعہ فرمودہ 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اسی طرح ہم ہمبرگ پہنچے، وہاں اخبار چھپتے ہیں۔ایک ساری دنیا میں جاتا ہے۔تین وہاں کے مقامی ہیں، جو اخبار ساری دنیا میں جاتا ہے، وہ ٹائم لنڈن کے پایہ کا اخبار ہے۔اور ہمیں تو اس کی اتنی اہمیت کا پتہ نہیں تھا کراچی میں ہمارے ایک غیر احمدی عزیز ہیں ، وہ مجھے ملے ، وہاں کسی نے کہا تو ضرور ہو گا، لیکن حافظہ نے ایسے یاد نہیں رکھا اور کچھ ہیں بھی وہ متعصب، تو میں نے جب ان کے سامنے Del Welt کا نام لیا اور کہا کہ یہ سارے جرمنی میں پڑھا جاتا ہے تو کہنے لگے ، سارے جرمنی میں نہیں، ساری دنیا میں پڑھا جاتا ہے۔اور بہت بڑا فوٹو اور نیچے اچھا لمبا نوٹ اس میں ہمارے متعلق شائع ہوا اور جو دوسرے اخبار تھے ، انہوں نے بھی نوٹ دیئے۔پھر کوپن ہیگن میں گئے۔کوپن ہیگن میں (جو ہمارے بعد کی اطلاع ہے ) تھیں ، پینتیس اخبار اور بھی لکھ چکے ہیں۔افتتاح کے متعلق بھی اور اس پیغام کے متعلق بھی ، جو ان کے نام میں نے دیا تھا۔اور اس کے متعلق نوٹ بھی۔سویڈن کے ایمبیسڈر" (Embassador) یہاں ہیں، ان کو شوق پیدا ہوا کہ وہ مجھے ملیں، کہنے لگے کہ میں ان دنوں چھٹی پر تھا۔(وہاں سویڈن میں ) افتتاح ہمارا ہوا تھا، ڈنمارک میں۔کہنے لگے کہ میں نے وہاں تین آرٹیکل اخباروں میں پڑھے۔پھر مجھے دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے پاکستان کے ایمبیسڈر سے فون کر کے کچھ اور معلومات حاصل کیں اور اب مجھ کو ملنے کا شوق تھا، میں نے جب ان کو ڈنمارک کے اخباروں کے کٹنگز (Cuttings) دکھائے تو بے ساختہ ان کے منہ سے نکلا کہ بڑی پلٹی ہوئی ہے۔اور ایک ویکلی ہے اور با تصویر ہے۔ہمیں علم تھا کہ ڈنمارک میں کوئی ایسا گھر نہیں ، جہاں وہ اخبار نہ پہنچتا ہو۔اس نے پورا ایک صفحہ ہماری تصاویر اور نوٹوں کے لئے دیا۔انگلستان پہنچے۔پہلے لنڈن کے اخبارات نے خاموشی اختیار کی۔ہم گلاسگو چلے گئے۔دو، تین دن بڑی مصروفیت کے تھے۔گلاسکو کے اخباروں نے انٹرویو لئے ، پر یس کا نفرنس ہوئی تو اخباروں نے لکھ دیا۔پھر راستے کے جو اخبار تھے ، انہوں نے لکھا۔پھر ان کو خیال آیا کہ ہم سے غلطی ہوئی ہے، ہمیں صبر کرنا چاہئے تھا۔ٹائم لنڈن ، جس پر یہاں بھی بعض لوگوں کے دل میں حسد پیدا ہوا ہے۔م ش نے بھی ایک لا یعنی نوٹ ” نوائے وقت میں شائع کروا دیا ہے اور وضاحت کو سننے کے لئے اب تیار نہیں۔خیر بہر حال یہ تو ضمنی بات ہوئی۔دنیا کے دو، چار اخبار ہوں گے، جنہیں ساری دنیا تو قیر کی نظر سے دیکھتی ہے، ان کی عزت اور احترام کرتی ہے، ان کو وقعت دیتی ہے، ان میں سے ایک اخبار ہے، ٹائم لنڈن۔ہم ابھی واپس لنڈن نہیں پہنچے تھے کہ ہمارے پاس ان کا فون آیا کہ ہم آپ سے ایک خصوصی انٹرویو لینا چاہتے 260