تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 254
خطبہ جمعہ فرمود و 15 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خدا کی منشاء کے بغیر اور اس کے اذن کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا۔تب میں نے خود بھی دعائیں کیں اور جماعت کے دوستوں کو بھی اس طرف متوجہ کیا کہ وہ دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اگر یہ اہم سفر بابرکت ہو، تبھی یہ سفر اختیار کیا جائے۔اگر یہ مقدر نہ ہو تو روک پیدا ہو جائے۔ان دعاؤں کے بعد اور ان دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم نشان میں نے دیکھا۔اس کے نور کا حسین ترین جلوہ مجھے دکھایا گیا، جس کی تفصیل میں ربوہ والے خطبہ میں بیان کر چکا ہوں اور کسی وقت الفضل کے ذریعہ آپ تک پہنچ جائے گی۔اس لئے اس کی تفصیل میں، میں اس وقت جانا نہیں چاہتا۔اور مجھے یہ سلی دی گئی تھی کہ بے شک تم ایک عاجز انسان ہو، ایک کم مایہ وجود ہولیکن خدا تمہارے ساتھ ہے اور رہے گا اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ہو جائے تو کسی اور چیز کی کسی اور وجود کی کسی اور منبع اور سر چشمہ کی اسے ضرورت نہیں رہتی۔اسی حسین نظارہ میں، جس کی تفصیل انشاء اللہ آپ پڑھ لیں گے، میں نے ایک یہ نظارہ بھی دیکھا تھا کہ ایک عجیب نور، جو مختلف رنگوں سے بنا ہوا ہے، وہ ایک دیوار سے پھوٹ پھوٹ کے باہر نکل رہا ہے۔اور بہت موٹے حروف میں، جوقریباً کم و بیش ( پہلے خطبہ میں جو اندازہ کیا تھا وہ میں غلط کر گیا تھا۔) نظر کا اندازہ یہ ہے کہ اتنا پھیلاؤ تھا، جتنار بوہ میں قصر خلافت کا ہے۔وہاں أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کے حروف ابھرے ہیں۔اور اس کے پیچھے سے نور چھن چھن کے باہر آ رہا ہے۔اس دن جب میں نے نظارہ دیکھا تو میری طبیعت میں بشاشت پیدا ہوئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ اس سفر پہ میں ضرور جاؤں گا۔اس زمانہ میں سندھ کے ایک احمدی دوست کو یہ کشف ہوا ، لکھتے ہیں کہ میں نے بیداری کی حالت میں دیکھا کہ ایک بزرگ سفید کپڑوں میں ملبوس آئے ہیں اور عربی زبان میں مجھ سے گفتگو شروع کر دی ہے۔اور پوچھتے ہیں کہ تمہیں علم ہے کہ خلیفة المسیح یورپ کے سفر پر جارہے ہیں؟ میں نے انہیں کہا کہ ہاں، مجھے علم ہے۔اس پر وہ بزرگ کہنے لگے کہ کیا انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اجازت لے لی ہے، اس سفر پر جانے کی ؟ تب وہ کہتے ہیں کہ میرے سامنے یہ نظارہ آیا کہ مسجد مبارک میں (غالباً انہوں نے لکھا ہے کہ قادیان کی مسجد مبارک میں) آپ آئے ہیں اور محراب کے قریب آپ کھڑے ہو گئے ہیں۔میں آپ کے پاس پہنچا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ سے اس سفر پر جانے کی اجازت لے لی ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں، میں نے اپنے اللہ سے اجازت لی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دی ہے اور بڑی بشارت اور نہایت اعلی کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ پھر میں واپس گیا اور اس بزرگ سے، جو عربی میں باتیں کر رہے تھے، مزید باتیں کرتا رہا۔اور یہ سارا نظارہ بیداری کے عالم میں، میں نے دیکھا۔254