تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 243
تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 10 ستمبر 1967ء اور ہر قسم کے شر سے پاک ہو کر اس مسجد میں داخل ہونا چاہے۔اس اعلان کا نتیجہ یہ ہوا کہ بیسیوں بچوں نے (گو یہ عمرنا جبھی کی ہے۔ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہو کر نماز ادا کی۔اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ سینکڑوں عیسائی مردوں اور عورتوں نے ہماری دعا اور نماز کے وقت اس عبادت میں اس طرح شرکت کی کہ وہ بھی سر جھکا کر اس نماز کے وقت دعا کرتے رہے۔اور ایک شخص نے اخبار میں لکھا کہ اس روز ہمیں عبادت کا جو مزہ آیا ، وہ ہمیں کسی اور جگہ نہیں ملا۔غرض مسجد کی روح بھی ان لوگوں پر روشن ہوئی اور ان کے دلوں کو جذب کیا۔اور انہیں خدائے واحد کی طرف متوجہ کیا، اسلام کا پیغام سننے کے لئے انہیں تیار کیا اور لاکھوں آدمیوں کے دلوں میں، جو ڈنمارک میں رہتے ہیں، یہ جستجو پیدا کی کہ ہمیں اسلام کے متعلق مزید واقفیت حاصل کرنی چاہیے۔ہمارے دورہ کے بعد اس وقت تک وہاں پانچ بیعتیں ہو چکی ہیں۔(اب یہ تعداد 8 تک پہنچ چکی ہے۔ان بیعت کرنے والوں میں ایک کیتھولک نو جوان بھی شامل ہیں اور وہ سکنڈے نیویا میں پہلے کیتھولک نوجوان ہیں، جس نے اسلام اور احمد بیت کو قبول کیا ہے۔اور ہمارے امام کمال یوسف بہت خوش ہیں کہ کیتھولک عیسائیوں کے لئے بھی ، جو اپنے مذہب میں بڑے کٹر ہوا کرتے ہیں، اسلام کا دروازہ کھل گیا ہے۔مسجد نصرت جہاں یورپ کے تمام ملکوں کی مدد کے لئے قائم ہوئی ہے۔اور اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ میں یہاں لوگوں کی روحانی مدد کے لئے موجود ہوں اور قیامت تک قائم رہوں گی ، انشاء اللہ۔اس مسجد نے ان لوگوں کے دلوں کو متاثر کیا، ان کے دلوں میں اپنی محبت قائم کی اور ان کے دلوں کو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کیا اور ان کی روحوں میں ایک ہلکی سی روشنی کی چمک پیدا کی ، جس کے نتیجہ میں ہم امید رکھتے ہیں کہ ایک دن اسلام کی پوری روشنی بھی ان کے دلوں میں پیدا ہو جائے گی اور وہ اپنے رب کو پہنچانے لگیں گے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( جو تمام دنیا کے حسن اعظم ہیں۔) کے ٹھنڈے سایہ تلے جمع ہو کر اس آتشیں تباہی سے محفوظ ہو جا ئیں گے کہ جس سے انہیں ڈرایا گیا ہے۔وہاں میں نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں جو درخت یورپ میں لگائے تھے ، ان کے شیریں پھل پیدا ہونے شروع ہو گئے ہیں۔میں یہ دیکھ کر بڑا ہی خوش ہوا اور میں نے اپنے رب کی بڑی ہی حمد کی کہ وہاں کی احمدی مستورات میں اس قسم کا اخلاص اور ایثار اور فدائیت اور جاں نثاری کا جذبہ پایا جاتا ہے کہ جس قسم کی فدائیت اور جاں ماری کا جذبہ ہمارے ملک کی اکثر احمدی مستورات میں پایا جاتا ہے۔کوپن ہیگن میں ہماری پانچ سات احمدی بہنیں ہیں، وہ صبح آٹھ بجے سے لے کر رات کے گیارہ بارہ بجے تک جماعت کے کاموں میں مشغول رہتی تھیں اور بڑے شوق سے کام کرتی تھیں۔اسی طرح زیورک میں ہماری ایک احمدی بہن ہے ، وہ ایک بڑے مشہور 243