تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 242
خطاب فرموده 10 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چهارم دکھائیں ، ان کا شکریہ ادا کریں اور جاتے وقت ان کے ہاتھ میں وہ دو ورقہ دے دیں، جو اس غرض کے لئے پہلے سے ڈینش زبان میں شائع کرا لیا گیا تھا ، وہ نا کافی ہو جاتے۔تو عیسائی بچے ہمارے مہمانوں کا استقبال کرتے ، انہیں مسجد میں لاتے ، انہیں مسجد دکھاتے اور جب وہ واپس جاتے تو وہ عیسائی بچے عیسائیوں کے ہاتھ میں اسلام کا پیغام یعنی وہ دو ورقہ پہنچا دیتے۔پھر قریباً سب اخبارات نے، جو ڈنمارک سے چھپتے ہیں اور بعد کی رپورٹ کے مطابق جو سویڈن اور ناروے میں بھی چھپتے ہیں، انہوں نے اس مسجد کا تذکرہ اپنے اخبارات میں کیا اور اس پر مضامین لکھے۔بعض رسالوں نے پورا ایک صفحہ مسجد کی تصاویر اور اس مضمون پر صرف کیا، جو انہوں نے اس کے بارہ میں لکھا۔پھر ریڈیو کے ذریعہ اس مسجد کا ذکر دنیا کے کونہ کونہ میں پہنچ گیا۔اس کے علاوہ ٹیلی ویژن پر مسجد کا افتتاح کروڑوں باشندوں نے دیکھا۔اور نہ صرف یورپ کے کروڑوں باشندوں نے دیکھا بلکہ جس بات سے مجھے بہت خوشی ہوئی ، وہ یہ ہے کہ سعودی عرب میں بھی افتتاح کی ٹیلی ویژن دودفعہ دکھائی گئی۔( بعد کی اطلاع کے مطابق مصر میں بھی دکھائی گئی۔) لوگوں کے دلوں میں اس مسجد کی محبت اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس قدر پیدا کی کہ وہاں کے لارڈ میئر نے کہا کہ ہم آپ کے ممنون ہیں کہ آپ نے ہمارے علاقہ میں ایک مسجد تعمیر کی ہے۔اور ہمیں یہ یقین ہے کہ باہر سے آنے والے لوگ، جو سیاحت کرتے ہوئے ہمارے علاقہ میں پہنچیں گے، وہ اس مسجد کو دیکھ کر بہت محظوظ ہوں گے۔تصاویر اس مسجد کی اتنی لی گئیں کہ ان کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ہزاروں کیمروں کی آنکھیں اس مسجد پر پڑی اور ہزاروں کیمروں کے سپنوں نے اس مسجد کا حسین عکس اپنے اندر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا۔اور ہزاروں گھروں میں وہ تصاویر ایک لمبے عرصہ تک محفوظ رہیں گی۔اور وہ لوگ اور ان کے بچے انہیں دیکھا کریں گے۔اتنی مقبولیت اس مسجد کو حاصل ہوئی کہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے، اس کا انداہ کرنا مشکل ہے۔اور مسجد کی مقبولیت ایک بے معنی چیز ہے، اگر صرف یہی ہو کہ اینٹیں دیکھیں یا سیمنٹ کی تعمیر دیکھی اور اس سے محظوظ ہوئے۔اصل چیز تو مسجد کی روح ہے۔اور مسجد کی روح نے بھی لوگوں میں ایک انقلاب عظیم پیدا کیا۔میں نے افتتاح کے موقع پر یہ اعلان کیا کہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق اَنَّ الْمَسْجِدَ لِلهِ مساجد اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم عاجز بند کے بطور نگران کے ان کی دیکھ بال کرتے ہیں۔اسلام نے مسجد کا دروازہ ہر اس شخص کے لئے کھلا رکھا ہے، جو خدائے واحد کی پرستش کرنا چاہے اور نیک نیتی کے ساتھ 242