تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 241
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطاب فرموده 10 ستمبر 1967ء مسجد نصرت جہاں کو اللہ تعالیٰ نے بڑی برکتوں کا موجب بنایا ہے خطاب فرمودہ 10 ستمبر 1967ء حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی سفر یورپ سے کامیاب مراجعت پر آپ کی خدمت میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ، لجنہ اماءاللہ ربوہ اور ناصرات الاحمدیہ کی طرف سے سپاسنامہ پیش کرنے کی تقریب کے موقع پر حضور انور نے درج ذیل خطاب فرمایا:۔تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔سب سے پہلے تو میں تینوں ایڈریسوں پر ، جو یہاں دیئے گئے، لجنہ اماءاللہ مرکزیہ، لجنہ اماء اللہ ربوہ اور ناصرات الاحمدیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔شکریہ سے تو میرادل لبریز ہے۔مگر جس شکریہ سے میرا دل لبریز ہے ، وہ اپنے رب کے لئے ہے۔جس کی حمد میرے روئیں روئیں سے پھوٹ کر باہر نکل رہی ہے۔نصرت جہاں مسجد کے افتتاح کے ساتھ کہ جس کے لئے میں کوپن ہیگن گیا، یہ مقصد بھی میرے پیش نظر تھا کہ جس غرض کے لئے مساجد تعمیر کی جاتی ہیں، اس غرض سے بھی ان ممالک کے بسنے والوں کو روشناس کرایا جائے۔یہ مسجد بہت سے پہلوؤں سے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔زمانہ کے لحاظ سے اس کو دو خلافتوں نے گھیرا ہوا ہے۔دعاؤں کے لحاظ سے ابتدا میں، جب اس کی بنیاد رکھی گئی یعنی جب اس کے لئے چندہ جمع ہونا شروع ہوا، اس نے ہمارے محبوب امام حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دعائیں لی تھیں اور جب یہ کمل ہوئی یا جب یہ تکمیل کے دور میں سے گزر رہی تھی ، اس وقت خلافت ثالثہ کی دعا ئیں اس کے ساتھ تھیں۔پھر جس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کو قبولیت عطا کی ہے، اس کی مثال بھی دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے رب نے آسمان کے فرشتوں سے کہا، زمین پر اتر و اور اس مسجد کی مقبولیت دلوں میں بٹھاؤ۔پہلے دن سے ہی ہزاروں کی تعداد میں غیر مسلم اسے دیکھنے کے لئے آتے رہے اور پھر ہفتوں یہ سلسلہ جاری رہا۔صرف یہی نہیں بلکہ اس کثرت سے عیسائی لوگ اس مسجد کو دیکھنے کے لئے آتے تھے کہ جن دوستوں کے ذمہ یہ کام لگایا گیا تھا کہ وہ آنے والوں کا استقبال کریں ، انہیں مسجد 241