تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 239 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 239

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 08 ستمبر 1967ء ہیں اور جوان ہیں، آپ کو مجھ سے زیادہ کام کرنے کا شوق اور ہمت ہونی چاہیے۔یہ حقیقت ہے، جس کے بغیر ہم اپنے فرائض کو کما حقہ ادا نہیں کر سکتے۔پھر دیانت کا ہمیں سبق دیا گیا تھا۔دیانت، بندوں کے ساتھ جو تعلقات ہیں، ان کے لئے بھی ضروری ہے۔بد دیانتی کے نتیجہ میں جھوٹ آدمی بولنے لگ جاتا ہے۔جب وہ دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض ادا نہ کر رہا ہو اور ظاہر یہ کرنا چاہے کہ میں دیانتداری کے ساتھ اپنے فراض ادا کر رہا ہوں ،اسے جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔پس جب تک دیانتدارانہ تعلقات آپس کے نہ ہوں، اپنے رب سے نہ ہوں، اس وقت تک ہم اپنے رب کی رضا کو حاصل کیسے کر سکتے ہیں۔پھر تمہیں سبق دیا گیا تھا، خادم نام میں کہ کسی وقت کبر اور غرور تم میں پیدا نہ ہو۔بلکہ خادمانہ ذہنیت اپنے اندر پیدا کرو محض خدمت کرنا، کوئی چیز نہیں۔انسان کو ایسا ہونا چاہئے کہ ہر وقت وہ اپنے آپ کو خادم سمجھتار ہے۔اس کی باتوں میں، اس کی طرز میں، جب وہ کسی کو مخاطب ہو اس میں کسی قسم کی بڑائی نظر نہ آئے۔ہر وقت عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے والا ہو۔اور اس عاجزی میں بڑی شان اور بڑی طاقت۔زیورک میں ایک بہت بڑے غیر احمدی بھی آئے ہوئے تھے۔ریسپشن میں ہر ایک اپنی نظر سے دیکھتا ہے، دوسرے کو۔وہ چوہدری مشتاق احمد صاحب کو کہنے لگے کہ اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے ایک مقام عطا کیا ہے اور ہم جانتے ہیں، وہ بڑا ارفع مقام ہے لیکن جس وقت ہم آپس میں بیٹھے اور باتیں کیں تو بالکل یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ کوئی بزرگ یا کوئی بلند مقام والا آدمی ہم سے باتیں کر رہا ہے۔اس طرح ہے تکلفی کے ساتھ اخوت اور برادرانہ رنگ میں ہم سے باتیں ہورہی تھیں اور اس چیز نے مجھ پر بڑا اثر کیا۔ان کو کیا معلوم کہ جو شخص اپنے رب کی معرفت حاصل کر لیتا ہے، اس کے لئے سوائے نیستی کے مقام کے اور کوئی مقام باقی نہیں رہتا۔خود بینی تو بت پرستی ہے۔مشرک ہے ایسا شخص، جو اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے۔جو شخص تو حید پر قائم ہے، وہ اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا۔وہ اپنی حقیقت کو جانتا ہے اور اپنے رب کی طاقت کو بھی پہنچانتا ہے۔اس کے دل اور دماغ میں تکبر اور غرور اور اپنی بڑائی اور اپنے علم کا زعم کس طرح پیدا ہو سکتے ہیں۔تو ہمیں بنیادی سبق یہ دیا گیا تھا کہ خادم کی حیثیت کو بھولنا مت۔کیونکہ اس میں تمہارے لئے ساری عزتیں اور اس میں تمہارے لئے ساری کامیابیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو سب عزتیں اور ساری ہی کامیابیاں عطا فرمائے۔آئیں اب دعا کر لیں۔( مطبوعه روزنامه افضل 23 دسمبر 1967ء) 239