تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 238 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 238

خطاب فرمودہ 08 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ایسا نہیں ، جس کو ہم نے ادا نہیں کرنا۔اس لئے کہ ہم اپنے رب سے ڈرتے ہیں کہ اگر ہم نے اس کے کہنے کے مطابق اس کے بندوں کے حقوق ادا نہ کئے تو وہ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔اور اس کے غضب کی ہمیں برداشت نہیں۔تو جو دور دن کی ہے، جس میں حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی ہمیں بہت توجہ دینی پڑتی ہے۔اس میں بھی ہماری ذمہ داریاں زیادہ ہیں، دوسرں کی نسبت تو ہماری رفتار دگنی نہیں بلکہ تگنی ، چار گنی ہو، تب کہیں جا کے ہم اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک طرح نبھا سکتے ہیں۔میں اپنے اس دورہ میں یورپ میں بسنے والوں کو بھی کہتا رہا ہوں اور یہاں بھی میں نے یہ بیان کیا ہے کہ اگلے پچھیں، تمیں سال انسانیت کے لئے بڑے ہی نازک ہیں۔ہمارے ایک مبلغ نے وہاں ایک خواب دیکھی کہ چونسٹھ سال کے بعد وہ واقعات ہوں گے۔انہوں نے مجھے خواب لکھی فوری طور پر میرے ذہن میں یہ تعبیر آئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بتایا ہے کہ جس رفتار سے تم چل رہے ہو، اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونسٹھ سال کے بعد موجودہ واقعات رونما ہونے والے ہیں۔حالانکہ ہونے ہیں، جلدی۔اس واسطے اپنی رفتار کو تیز کرو۔تو ہمیں آہستہ نہیں چلتا۔ہم نے دوسروں کی تیزی جتنی تیزی بھی نہیں دکھانی۔بلکہ ان سے زیادہ تیز چلنا ہے۔حقوق اللہ کی ادائیگی کی طرف دوسروں کا کوئی خیال ہی نہیں۔حقوق العباد کچھ ادا کئے جاتے ہیں، باقی جو ہیں، ان سے غفلت برتی جاتی ہے۔لیکن ہماری زندگی غفلت کو برداشت نہیں کرسکتی۔ہم نے تو ہر وقت چوکس اور بیدار رہ کر اپنی زندگی کے دن گزارنے ہیں۔ہماری رفتار بہت تیز ہونی چاہیے۔اور اس کے نتیجہ میں ہمیں ہلکا پھلکا بھی رہنا چاہیے۔زندگی کے ہر شعبہ میں ، ہر لحاظ سے (اس وقت وہ میرے زیر بحث نہیں۔بہر حال ہمیں محنت کی عادت ڈالنی چاہیے۔کیونکہ جو بوجھ ہمارے کندھوں پر رکھا گیا ہے، وہ ہم اٹھا نہیں سکتے ، جب تک ہمیں محنت کی عادت نہ ہو۔اور اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔انگلستان میں ( میں اللہ تعالیٰ کا ایک نہایت عاجز بندہ ہوں، بہت کمزور ہوں۔سر درد کے بھی دورے ہو جاتے ہیں لیکن وہاں ) چونکہ اندر ایک آگ لگی ہوئی تھی، تربیتی امور میں یا تبلیغی کاموں میں مصروف رہ کے میں قریباً سارا عرصہ ایک اور دو کے درمیان یا اکثر دو کے بعد سویا ہوں۔ایک دن ایک بزرگ مجھے کہنے لگے ، تھک گئے ہیں، آپ ذرا خیال رکھیں ، آرام کریں۔تو میں نے ان کو جواب دیا کہ آرام کی عادت ہی نہیں رہی۔یہاں گذشتہ رات میں نے ڈیڑھ بجے کام چھوڑ دیا تھا اور میرا خیال تھا کہ نسبتاً زیادہ آرام کرلوں گا لیکن جب میں لیٹا تو مجھے نیند نہ آئی۔خیر اس طرح مجھے اللہ تعالیٰ نے دعا کا موقع دیا۔میں دعا کرتا رہا، سو یا اپنے وقت پر ہی اڑھائی اور تین بجے کے درمیان تو بوڑھا تو نہ میں اپنے آپ کو کہتا ہوں ، نہ سمجھتا ہوں۔لیکن کافی بڑی عمر کا انسان آپ کے مقابلہ میں اتنا کام کر سکتا ہے تو آپ، جو بچے 238