تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 237
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 08 ستمبر 1967ء جب تک خلافت راشدہ قائم ہے، یہ برکات خلافت جماعت کے اندر قائم رہیں گی۔اگر اور جب خدا نہ کرے، حالات بدل جائیں اور جماعت بحیثیت جماعت اس پختہ ایمان اور پختہ عمل پر قائم نہ رہے، جس کے نتیجہ میں خلافت کا انعام ملتا ہے تو کیا ہوگا ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانے۔لیکن ہمیں آج ایسے کمزور احمدی کی ضرور فکر ہے، جو احمدی کہلاتا ہے لیکن نظام احمدیت کے مرکزی نقطہ سے غافل ہے۔اور اس کو پہنچانتا نہیں۔اسی لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم خدام کو عہد میں اس لئے شامل کیا تھا کہ جماعت کے نوجوان خلافت سے وابستہ رہیں۔اس حد تک کہ ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ر ہیں۔اور اسی میں ہر خیر و برکت ہے۔اس تنظیم کے لئے ، جو خدام الاحمدیہ کہلاتی ہے، دوسر اسبق ہمیں دیا گیا تھا محنت کا۔اگر ہم اس سبق پر غور کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ہماری ذمہ داریاں دوسری کے مقابلہ میں دوہری ہیں۔جو انسان اپنے رب کو نہیں پہنچانتا، اس کی جتنی بھی ذمہ داری ہے، دنیوی ہے۔اپنے بھائیوں سے تعلق رکھتی ہے۔لیکن وہ جماعت اور اس جماعت کے نوجوان، جو اپنے رب کو پہنچانتے ہیں اور اس کا عرفان رکھتے ہیں، ان کے اوپر ایک طرف حقوق اللہ کی ادائیگی کی ذمہ داری ہے تو دوسری طرف حقوق العباد کی ادائیگی کی ذمہ داری۔لیکن ہر دو گروہوں کی زندگی کے اوقات ایک ہی ہیں۔وہی چوبیس گھنٹے ایک کو ملتے ہیں ، وہی دوسرے کو ملتے ہیں۔اگر ایک شخص نے ان چوبیس گھنٹوں میں ان دوہری ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہو تو عقل کہتی ہے کہ اپنی رفتار کو ڈبل کر دو۔دگنی رفتار سے چلو، تب تم اپنے مقصد کو پاسکو گے۔تو ہمارے اوپر ذمہ داری چونکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد ہر دو کی ادائیگی کی تھی، اس لئے ہمیں ہمارے پیارے امام مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ محنت کی عادت ڈالو۔اتنی محنت کرو کہ کوئی دوسرا انسان (احمدیت سے باہر ) اتنی محنت نہ کرتا ہو۔حقوق اللہ کی ادائیگی میں ہم نے تسبیح اور تحمید کرنی ہے، حقوق اللہ میں ہم نے نماز باجماعت ادا کرنی ہے، راتوں کو اٹھنا ہے اور رات کو اتنی نیند نہیں لینی جتنی کہ عام طور پر دوسرے لوگ لیتے ہیں۔بہت سے حقوق ہیں ہمارے اللہ کے، جو ہم نے ادا کرنے ہیں۔اور پھر دن کی دوڑ میں ، جس میں ہم اور وہ برابر ہیں، حقوق العباد کی ادائیگی میں، ان کے ساتھ ہم نے دوڑنا ہے۔اور اس میں بھی ہماری ذمہ داری زیادہ ہے۔کیونکہ دوسرے تو حقوق العباد کو اچھی طرح سمجھتے نہیں۔کوئی اپنے ہمسایہ کا حق ادا نہیں کر رہا، کوئی اپنے شریک کا حق ادا نہیں کر رہا، کوئی اپنی بیوی کا حق ادا نہیں کر رہا، کوئی بیوی اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کر رہی کوئی ، اپنے ملک کا حق ادا نہیں کر رہا، کوئی اپنے ہم پیشہ لوگوں کا حق ادا نہیں کر رہا۔کتنے حقوق ہیں، جن کو یا تو وہ سمجھتے نہیں یا انہیں ادا نہیں کر رہے۔لیکن ہم ایسا کر نہیں سکتے۔کوئی حق 237