تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 236
خطاب فرمودہ 08 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اس تربیت کے لئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آپ کو بہت سے اسباق دیئے ہیں۔جن میں سے چند ایک کا، جو بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، میں اس وقت یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔پہلا سبق خلافت سے وابستگی کا تھا۔دوسرا سبق محنت کی انتہائی محنت کی عادت ڈالنے کا تھا۔تیسر اسبق دیانتداری کو قائم کرنے کا تھا۔چوتھا سبق، جو تنظیم کے لئے دھینا بنیادی سبق ہے، وہ یہ تھا کہ ہم میں سے ہر ایک نوجوان کو یہ سمجھے لینا چاہیے کہ اس نے اپنی زندگی میں عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا اور خدا اور اس کے رسول کا ایک طرف اور بنی نوع انسان کا دوسری طرف ایک خادم بن کر اپنی زندگی کو گزارنا ہے۔پہلے سبق کے متعلق میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی منشاء اپنے سلسلہ میں خلافت راشدہ کو قائم رکھنے کی رہے، اس وقت تک تمام برکتیں خلافت سے وابستہ ہوتی ہیں۔اور ہر وہ شخص جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتا ، وہ ان برکتوں سے محروم رہ جاتا ہے۔میرا یہ تجربہ ہے ذاتی کہ بعض لوگ ، جو اس نکتہ کو نہیں سمجھتے ، ان کے حق میں میری دعائیں قبول نہیں بلکہ رد کر دی جاتی ہیں۔حالانکہ میں نے اپنے لئے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ اگر کسی شخص کے متعلق مجھے یقین بھی ہو جائے کہ وہ خلافت کی اہمیت کو نہیں سمجھتا اور اس کے دل میں خلافت کے نظام سے وہ محبت اور پیار نہیں، جو ایک احمدی کے دل میں ہونی چاہیے، تب بھی میں اس کے لئے دعا کرتارہتا ہوں۔اور دعا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑتا۔اب دعا کرنا میرا کام ہے، میں اپنا کام کر دیتا ہوں۔دعا قبول کرنا، میرے رب کا کام ہے۔اور میں نے اکثر یہ دیکھا ہے کہ ایسے لوگوں کے حق میں میری دعا قبول نہیں ہوتی۔حالانکہ اس سے برعکس بہت سے ایسے احمدی بھی ہیں، جو اگر چہ اعتقاداً پختہ ہوتے ہیں اور نظام جماعت سے ان کا بڑا گہرا اور سچا تعلق ہوتا ہے اور خلافت سے وہ حقیقی تعلق رکھتے ہیں لیکن عملاً بہت سی ذاتی کمزوریاں ان میں پائی جاتی ہیں لیکن جب اس گروہ کے متعلق یا ان میں سے کسی فرد کے متعلق دعا کی جائے، اللہ تعالیٰ بسا اوقات محض اپنے فضل سے اس دعا کو بڑی جلدی قبول کر لیتا ہے۔یہ ایک ذاتی مشاہدہ ہے، اس مختصر سے وقت میں یعنی جب سے میں مسند خلافت پر بیٹھایا گیا، جو میں نے ذاتی مشاہدے کئے اور جس رنگ میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو نازل ہوتے دیکھا اور بعض دعاؤں کو رد ہوتے پایا۔یہ میرا امشاہدہ ہے، جو میں نے اختصار کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔236