تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 235
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم خطاب فرمودہ 08 ستمبر 1967ء خدام الاحمدیہ کے لئے چار بنیادی اسباق خطاب فرمودہ 08 ستمبر 1967ء حضرت خلیفة المسیح الثالث کی سفر یورپ سے کامیاب مراجعت پر مجلس خدام الاحمد یہ ربوہ نے حضور کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی۔اس موقع پر آپ نے مندرجہ ذیل اہم خطاب فرمایا:۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اے میرے نہایت ہی عزیز بچو! السلام عليكم ورحمة الله وبركاته جس وقت میری نظر آپ عزیزوں پر پڑتی ہے تو دل خوشی سے لبریز ہو جاتا ہے۔اور ذہن اس طرف متوجہ ہو جاتا ہے کہ احمدیت کے یہ وہ نو نہال ہیں، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اپنے اپنے وقت پر ان ذمہ داریوں کو اٹھانا ہے، جو ایک احمدی کے کندھوں پر اللہ تعالیٰ نے رکھی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جماعت نے ایک حد تک ان کی تربیت کی ہے۔اور جہاں تک ممکن ہو سکے، زیادہ سے زیادہ ان کی تربیت ہونی چاہیے۔جو نظارے اور واقعات میں نے یورپ کے ان ملکوں میں دیکھے ہیں، جن کے دورہ سے ابھی میں واپس آیا ہوں، اس کے نتیجہ میں، میں اس یقین سے پر ہوں کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں ، جب ہمارے نو جوانوں کو بھی اور بڑوں کو بھی ، مردوں کو بھی اور عورتوں کو بھی اسلام کے استحکام اور اسلام کی اشاعت کے لئے اور توحید کے قیام کے لئے انتہائی قربانیاں دینی پڑیں گی۔اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں اور میں بہت کثرت سے یہ دعائیں کرتا ہوں کہ جب بھی وقت آئے ، ہم میں سے کوئی بھی اپنے رب کے حضور شرمندہ نہ ہو۔بلکہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے ، انہیں کما حقہ ادا کرنے والا ہو۔235