تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 234
خطبہ جمعہ فرموده 08 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم لیکن صرف یہ فقرہ ابھی منہ سے نہیں نکالتے کہ عیسائیت دنیا میں باقی نہیں رہی۔اس دنیا میں، جس کا میں ذکر کر رہا ہوں یعنی یورپ اور امریکہ میں۔پس آسمان سے فرشتے نازل ہو چکے اور انہوں نے عیسائیت کو ان ملکوں سے مٹا دیا۔اب ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی انتہائی کوشش کر کے خدائے واحد کے جھنڈے ان ملکوں میں گاڑ دیں۔یہ ہے، ہماری ذمہ داری ! اور اس ذمہ داری کے نباہنے کے لئے جس حد تک ہمیں استطاعت ہو، اس حد تک تیاری کرنا ہمارا فرض ہے۔اور ان فرائض کی طرف مختصر میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔اور خصوصاً دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کوئی طاقت اور کوئی استطاعت اور کوئی اثر ورسوخ نہیں رکھتے اور نہ ہمارے پاس وسائل، ذرائع اور تدبیر کے مادی سامان اتنے ہیں، جتنے وسائل کی آج ہمیں اپنی عقل کے مطابق ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔لیکن ہمارا رب تمام طاقتوں کا منبع اور سر چشمہ ہے۔تمام علوم کے خزانے اس کے پاس ہیں۔کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے، کوئی طاقت اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتی۔اگر ہم دعا کے ذریعہ اس کے فضل کو جذب کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو صرف اسی صورت میں ہم کامیاب ہو سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔پس بہت دعا ئیں کرو، بہت دعائیں کریں، دعائیں کرتے ہوئے تھکیں نہ ماندہ نہ ہوں کہ صرف دعا کے ذریعہ سے ہمیں وہ چیز مل سکتی ہے، جو آج ہمیں اپنے فرائض پورا کرنے کی توفیق دے سکتی ہے اور اپنے مقصد کے حصول کی توفیق دے سکتی ہے اور ہمیں کامیاب کر سکتی ہے۔اور اس کے بغیر ہمارا کوئی چارہ ہی نہیں۔پس دعائیں کریں، دعائیں کریں، دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ وہ دن جلد لائے کہ آخری فیصلہ جو مقدر ہو چکا ہے، آسمانوں پر ظلمت اور نور کے درمیان ، وہ فیصلہ ہماری زندگیوں میں ، ہماری آنکھوں کے سامنے نافذ ہو جائے۔اور ہمیں بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خدمت کی کچھ تو فیق عطا کرے۔اور اپنی رضا کے عطر سے ہمارے اندر اس قدر خوشبو پیدا کر دے کہ یہ زمین اور وہ آسمان اس خوشبو سے بھر جائیں اور فرشتے ہم پر درود بھیجے لگیں۔وبالله التوفيق۔234 ( مطبوعه روزنامه افضل 11 اکتوبر 1967ء)