تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 232
خطبہ جمعہ فرمود : 08 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم قرآن کریم نے منافقوں کے متعلق یہ بیان کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں ، جو صرف زبان سے دعوی کرتے ہیں۔اور اس دعوی کے بعد جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں، ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی مخلص مومنوں کے ساتھ جہاد پر جانے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔اگر وہ اپنے دعوے میں بچے ہوتے تو ایک اخلاص رکھنے والے، ایک ایثار رکھنے والے مسلمان نے جو جہاد کی تیاری کی تھی ، یہ لوگ بھی اسی طرح اس کے لئے تیاری کرتے۔مگر یہاں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ دعویٰ تو ہے لیکن اس کے لئے تیاری نہیں۔جب تلوار سے دشمن اسلام، اسلام پر حملہ آور ہوا تو اللہ تعالیٰ نے مومن سے کہا کہ جتنی طاقت ہے، جتنے مادی سامان تم اکٹھے کر سکتے ہو، کرو۔اور میرے اس دشمن کا مقابلہ کرو۔میں تمہیں کامیابی عطا کروں گا۔اور خدا نے جو کہا ، وہ پورا کیا۔آج اسلام کے مقابلہ میں جھوٹے دلائل، غلط باتیں ، ہر قسم کا افتراء، پورے اعتراضات ، نفرت کے جذبات کو ابھارنا ، دجل کے تمام طریقوں کو استعمال کرنا، یہ وہ ہتھیار ہیں، جو اسلام کے خلاف استعمال کئے جارہے ہیں۔ان کا آج ہم نے مقابلہ کرنا ہے۔ان کا مقابلہ تلوار سے یا مادی سامانوں سے نہیں ہو سکتا۔غلط دلائل کا مقابلہ سچے دلائل سے کیا جا سکتا ہے۔دجل کے اندھیروں کا مقابلہ اللہ کی رضا کے نتیجہ میں جو نور حاصل ہوتا ہے، اس نور سے کیا جا سکتا ہے۔وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَاعَدُّوا لَهُ عُدَّةً تو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے ایثار اور فدائیت کا دعویٰ کرنا یا عزم کا اظہار زبان سے کرنا، یہ کافی نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی (باستثناء منافقین کہ جن کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے کہ دعویٰ ہے مگر تیاری نہیں ہے۔ان منافقین کے گروہ کے علاوہ ) ساری جماعت کو تیار ہونا پڑے گا، ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے۔اور ہم جو ذمہ دار ہیں، ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم جماعت کو تیار کریں۔یہ ایک عظیم موقع اشاعت اسلام اور دین حق کے غلبہ کا اللہ تعالیٰ نے آسمانی فیصلوں کے ذریعہ اور فرشتوں کے نزول کے ساتھ پیدا کر دیا ہے۔ہمارے سامنے میدان خالی پڑا ہے۔ہم نے آگے بڑھنا ہے، دلائل کے ہتھیار لے کر۔ہم نے آگے بڑھنا ہے، نور کی شمعیں ہاتھ میں لئے ہوئے۔ہم نے آگے بڑھنا ہے، تو حید خالص کی، جو کرنیں جسموں سے پھوٹتی ہیں، جب تو حید خالص ایک دل میں قائم ہو جاتی ہے، ان کرنوں کے سہارے۔اور اس کے لئے ہمیں خود کو اور جماعت کو تیار کرنا ہے۔232