تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 7
تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم اقتباس از خطاب فرموده 20 دسمبر 55 جماعت کے قیام کی اصل غرض کو ہمیں تحریک جدید کے ذریعہ پورا کرنا ہے "" خطاب فرمودہ 20 دسمبر 1965ء برموقع جلسہ سالانہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ غلبہ اسلام کی جو تحریک جاری فرمائی، وہ جماعت احمد یہ ہی کے نام سے موسوم ہے۔اس جماعت کے نظام کی بنیاد الوصیت پر ہے۔جس میں حضور نے واضح فرمایا ہے کہ یہ نظام کن اصولوں اور کن بنیادوں پر قائم ہے۔میں جماعتی نظام اور اس کے مختلف شعبوں کے متعلق مختصراً کچھ کہنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک وہ نظام، جو الوصیت کی بنیادوں پر قائم ہوا، اس کی تشکیل درجہ بدرجہ اس طرح پر ہے۔خلیفہ وقت بحیثیت مجموعی ساری جماعت ، وہ تنظیمیں اور ان کے شعبے، جنہیں خلیفہ وقت قائم کرتا ہے۔یہ ہمارا نظام ہے۔خلیفہ کا کام مامور من اللہ کی نیابت ہے۔اس نیابت کی رو سے ایک جماعتی نظام قائم ہوتا ہے۔اس نظام کو قائم رکھنے اور چلانے کی پوری پوری ذمہ داری خلیفہ وقت پر ہے۔اسے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک مخلصانہ مشوروں کی اور دوسرے مخلصانہ دعاؤں کی۔میں بھی احباب جماعت سے ان دو باتوں کی توقع رکھتا ہوں۔مجھے مخلصانہ مشوروں اور دعاؤں کی ضرورت ہے۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ دونوں چیزیں مجھے ملتی رہیں گی۔سو ہمارا نظام مندرجہ ذیل باتوں پر مشتمل ہے۔_1 -2 -3 خلیفہ وقت جماعت انتظامی ادارے اور شعبہ جات حضور علیہ السلام نے اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے جماعت کے ہر حصہ کو اقتصادی طور پر اور روحانی طور پر قائم رکھا۔پھر حضور نے جماعتی کاموں کو چلانے کے لئے ” الوصیت میں ایک مالی نظام بھی قائم کیا ہے۔اس کی رو سے وصیت کرنے والے احباب اپنی آمدن اور جائیداد کا1/10 حصہ جماعتی خزانہ میں جمع کراتے ہیں۔انتظامی ادارے کے طور پر حضور نے صدر انجمن احمدیہ کا نظام قائم فرمایا تھا۔لیکن جماعت کے ایک حصہ نے اس نظام کی حیثیت کو غلط سمجھا۔ایک گروہ وہ تھا، جوا کا بر پرمشتمل تھا اور ہر 7