تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 6

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 10 دسمبر 1965ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم ہمارے مال اور ہماری عزتیں سب خدا کے لئے ہیں اور خدا کی راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار ہیں۔اگر ہماری جماعت ایثار اور فدائیت کا یہ نمونہ دکھائے تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو دین و دنیا کی حسنات سے کچھ اس طرح نوازے گا کہ دنیا کے لئے قرون اولیٰ کی یاد تازہ ہو جائے گی۔ابھی ابھی مجھے مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کا وہ کشف یاد آ گیا ، جس میں ان کو دو، تین سو سال بعد کا نظارہ دکھایا گیا۔کشف میں انہوں نے دیکھا کہ بعد میں آنے والے لوگ آپس میں باتیں کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کس قدر احمق تھے ، وہ لوگ ، جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے آپ کو قبول نہ کیا۔اتنی بڑی صداقت، اتنے روشن اور واضح دلائل ، خدا کی نصرت کے اتنے نمایاں نمونے دیکھنے کے بعد کیا وجہ ہوسکتی تھی کہ انہوں نے مسیح محمد مٹی کے قبول کرنے سے انکار کر دیا؟ مطلب یہ کہ آنے والی نسلیں نہ ماننے والوں کو بڑی تعجب کی نگاہ سے دیکھ رہی تھیں۔ایسا ہی ہوگا یہ ایک حقیقت ہے، جس کو رد نہیں کیا جا سکتا۔اور وہ وقت قریب آ رہا ہے، جب دنیا انکارمہدی معہود کو حیرت و استعجاب سے دیکھے گی۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی فتح و نصرت اور کامیابی کا انتہائی زمانہ تین سو سال تک بتایا ہے۔لیکن حضور کے بعض کشوف اور الہامات یہ بتاتے ہیں کہ وہ آخری فتح، جس میں اسلام دنیا پر غالب آ جائے گا، شاید کچھ دیر چاہتی ہولیکن ان آنے والے چھپیں، تمہیں سالوں میں بعض ممالک اور علاقوں میں احمدیت کو کثرت حاصل ہو جائے گی۔(انشاء اللہ )۔اور وہاں کے رہنے والے اپنی زندگیاں تعلیم احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے مطابق گزارنے والے ہوں گے۔مگر اس انقلاب عظیم کے لئے ، جو دروازہ پر کھڑا ہے کتنی ہی قربانیاں ہیں، جو آپ کو دینی ہوں گی۔پس آپ کو وہ قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔خدا تعالیٰ اپنے فضلوں کی بارش آپ پر کرنا تو چاہتا ہے لیکن پہلے وہ یہ دیکھے گا کہ آپ ان فضلوں کے مستحق بھی ہیں یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی اور مجھ کو بھی ایسا بنا دے کہ ہم اس کی نظر میں ہر قسم کے انعاموں اور فضلوں کے مستحق ٹھہریں۔اور خدا تعالی کے وعدے جلد ہی ہماری زندگیوں میں پورے ہوں اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ وہ، جو دنیا کی نگاہ میں دھت کارا گیا تھا، وہی دنیا میں مقبول ٹھہرا۔اللهم آمین“۔مطبوعه روزنامه الفضل 09 جنوری 1966ء) 6