تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 222 of 1045

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد چہارم ۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 222

تقریر فرموده 05 ستمبر 1967ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد چہارم میرے ساتھ ہمیشہ ہی پیار کا تعلق رکھ۔کیونکہ میں تیری ناراضگی مول لینے کے لئے ہرگز تیار نہیں ہوں۔اور اللہ تعالی کے اس پیار کے نمونوں میں سے ایک نمونہ وہ محبت ہے، جس کا اظہار بغیر کسی تکلف کے جماعت نے یہاں کیا۔اور بغیر کسی تکلف کے وہ محبت میرے دل میں زیادہ شدت اختیار کرتی جاتی ہے۔انگلستان میں احمدی دوست بڑے پیار سے میرے پاس آ جاتے تھے۔مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع ہوتی تھیں۔کبھی میں دونوں نمازیں سوا نو بجے پڑھا دیتا تھا اور بھی ساڑھے نو یا پونے دس پڑھا دیتا تھا۔پہلے دن تو میں نے خیال نہ کیا ، پھر میں نے سوچا کہ ان دوستوں میں سے کوئی تو پچاس میل سے آیا ہے، کوئی ساٹھ میل سے آیا ہے، کوئی اس سے زیادہ یا کم فاصلہ سے آیا ہے۔اور صرف اس لئے آیا ہے کہ وہ نماز پڑھے اور نماز پڑھنے کے بعد اسے پچاس، ساٹھ میل کی مسافت طے کر کے اپنے گھر پہنچنا ہے، اس لئے ان کا حق ہے کہ میں اپنے آرام کو بلکہ ایک حد تک اپنے دوسرے کام کو پیچھے ڈال دوں اور ان کو سیر کرنے کی کوشش کروں۔چنانچہ مغرب اور عشاء کی نمازوں کے بعد قریب ہر روز میں نیچے بیٹھ جاتا تھا۔وہاں ایک بڑا ہال سا ہے۔اس میں 70,80,100, 60 دوست اکٹھے ہو جاتے تھے۔اور ہماری احمدی بہنیں، منصورہ بیگم اور بیگم مرزا مبارک احمد کے پاس بیٹھتیں اور ان کے ساتھ باتیں کرتیں۔ایک، ایک بجے راستہ تک وہ لوگ وہاں بیٹھتے۔ایک دن مجھے خیال آیا اور میں نے ایک عام بات کی کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ منافقوں کے علاوہ ہماری جماعت کی مثال سونے کی ڈلی ایسی ہے۔اگر کوئی گھر کا چھوٹا بچہ سونے کی ڈلی پر پاخانہ کر دے تو کوئی احمق شخص ہی ہو گا، جو اسے گندگی سمجھ کر باہر پھینک دے۔ہر شخص اسے صاف کرتا ہے، اسے چمکاتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کو سنبھال کر رکھتا ہے۔پس جہاں کہیں کسی احمدی میں کمزوری نظر آئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ خراب ہے۔بلکہ اندر سے وہ سونا ہے۔اگر اس کے باہر کوئی گند نظر آرہا ہو تو اسے صاف کرو۔حقیقت یہ ہے کہ وہ سونا بھی نہیں، ایک انمول ہیرا ہے۔اور دنیا میں اس کے مقابلہ میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے، جس کی قیمت اس ہیرے جتنی ہو۔وہ کمزوری دکھاتا ہے، بعض دفعہ وہ اپنے نفس پر قابو نہیں رکھتا، بعض دفعہ اسے غصہ بھی آجاتا ہے۔ہمارا فرض ہے، میرا بھی اور میرے دوسرے بھائیوں کا بھی کہ اپنی محبت کے تقاضہ کے ماتحت ہم اس شخص سے پہلے سے زیادہ شفقت اور پیار کریں۔کیونکہ وہ ہمارے پیار کا مستحق ہے۔اور یہ کوشش کریں کہ وہ ظاہر میں بھی دنیا کو ایک چمکتا اور دمکتا ہوا ہیر نظر آنے لگے۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک منافقوں کا ایک گروہ 222